انوارالعلوم (جلد 23) — Page 473
انوار العلوم جلد 23 473 قرآن مجید کی بیان کردہ تین صداقتیں سائنس کی۔۔۔۔مسلمانوں میں سے ننانوے فیصدی لوگ وفات مسیح کے عقیدہ کو ماننے لگ گئے ہیں، عصمت انبیاء کو ماننے لگ گئے ، عدم نسخ قرآن کے نظریے کو بھی نانوے فیصدی لوگ ماننے لگ گئے ہیں۔حالانکہ گزشتہ بارہ سو سال میں علمائے اسلام قرآنی آیات کے منسوخ ہونے کا عقیدہ رکھتے آئے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہایت لطیف رنگ میں انہی آیات سے بہت سی حکمتیں بیان فرمائیں جنہیں لوگ منسوخ سمجھتے تھے۔اس طرح مسئلہ نسخ قرآن کی بنیاد کو آپ نے توڑ کر رکھ دیا۔تمام وہ مسائل جو باقی دنیا اور مسلمانوں کے لئے مشکوک بلکہ مخالفانہ طور پر تسلیم کئے جاتے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُن کو بدل دیا۔پس نا ممکن بات کو خد اتعالیٰ کے فضل سے ممکن بنایا جاسکتا ہے۔جب ہم قادیان سے نکلے ہیں تو خود جماعت کا ایک بڑا حصہ کہتا تھا کہ اب ہمارے پاؤں کس طرح جمیں گے لیکن دیکھ لو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب ہمارا بجٹ پہلے سے زیادہ ہے اور مخالفت کے باوجود جماعت کی ترقی ہو رہی ہے۔اقتصادی حالت بھی پہلے سے بہتر ہے۔اگر جماعت کی صحیح تربیت کی جائے تو چندے دُگنے ہو سکتے ہیں۔میرے نزدیک ریسرچ سکالر کو یہ کبھی نہیں سوچنا چاہئے کہ کوئی ایسی بات بھی ہے جو نہیں ہو سکتی۔اس کو اپنی تحقیقات کے سلسلہ کو پھیلانے میں یہ بھی نہ ماننا چاہئے کہ میں دُنیا کو پیدا نہیں کر سکتا۔(گو یہ پیدا کرنا مجازی رنگ میں ہی ہو گا) یہ تو درست ہے کہ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے ناممکن قرار دے دیا ہے وہ بہر حال نا ممکن ہیں لیکن یہ درست نہیں کہ جن چیزوں کو انسان کسی وقت نا ممکن کہہ دیں وہ فی الواقع نا ممکن ہوتی ہیں۔ابھی جب ایٹم بم ایجاد ہوا تو وہ سائنسدان جو کہتے تھے کہ دنیا کا کبھی خاتمہ نہیں ہو سکتا وہ کہنے لگ گئے کہ اس ایجاد سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ دنیا ختم ہو سکتی ہے۔چار پانچ ماہ تک وہ لوگ CHAIN REACTION (تسلسل رد عمل) کے نظریہ کے ماتحت دنیا کے خاتمہ کے قائل رہے ہیں۔بہر حال ریسرچ کرنے والے انسان کے لئے بہت بڑی وسعت ہے۔دُنیا میں ایک وقت میں ایک چیز ناممکن سمجھی جاتی ہے اور پھر وہ ممکن ہو جاتی ہے۔گویا قدرت بھی اپنے دائرہ کو لمبا کرتی رہتی ہے۔پہلے لوگ دُنیا کی لمبائی کا اندازہ روشنی کے تین ہزار سال سمجھتے