انوارالعلوم (جلد 23) — Page 471
انوار العلوم جلد 23 471 قرآن مجید کی بیان کردہ تین صداقتیں سائنس کی۔۔۔دنیا میں مختلف خیال کے لوگ بستے ہیں بعض لوگ تو یہ خیال کرتے ہیں کہ دُنیا کی طرف توجہ کرنا مذہب کا کوئی حصہ نہیں۔بلکہ اُن کے نزدیک دُنیا سے بے توجہ رہنا مذہبی آدمی کے لئے ضروری ہے۔جیسا کہ بُڈھوں کا خیال ہے یا عیسائیوں کے بعض فرقے سمجھتے ہیں۔بعض لوگ دُنیا کو صرف دُنیا کے نقطہ نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اُس کو ہی اپنا منتہائے مقصود سمجھتے ہیں۔بعض ایسے لوگ بھی ہیں کہ وہ کائناتِ عالم پر غور کرتے ہیں اور بعض ایجادات بھی ایجاد کرتے ہیں لیکن ان کے مذہب نے انہیں اس بارے میں کوئی ہدایت نہیں کی۔ان کے مذہب اس پہلو سے سراسر خاموش ہیں۔انہوں نے یہ طریق اپنے لئے از خود ایجاد کر لیا ہے لیکن قرآن کریم تو مسلمانوں کو نہ صرف کائنات عالم پر غور کرنے کی طرف توجہ دلاتا ہے بلکہ وہ اس کام کو مذہب کا ایک حصہ قرار دیتا ہے اور اس کوشش کے نتیجہ میں ثواب اور روحانی بدلے کی اُمید دلاتا ہے۔اگر مسلمان اس پہلو سے غفلت اور سستی کریں تو وہ صریح طور پر قرآن کریم کے احکام سے منہ پھیر نے والے قرار پائیں گے۔جو لوگ صحیح طور پر کائناتِ عالم پر غور کرنے والے ہیں وہ بڑی محنت سے کام کرتے ہیں۔میں نے بہت سے سائنسدانوں کے حالات پڑھے ہیں۔وہ بڑے انہماک سے بارہ بارہ گھنٹے تک کام کرتے ہیں اور پھر شاندار نتائج پیدا کرتے ہیں لیکن مسلمان بالعموم پانچ چھ گھنٹے کے کام کو بہت زیادہ سمجھتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے کہ لوگ اسی لئے اپنے کام کی رپورٹ کرنے اور ڈائری لکھنے سے گھبراتے ہیں۔تبلیغی کام کرنے والے اور ریسرچ میں کام کرنے والے اگر اپنے کام کی ڈائری لکھیں تو اس سے انہیں صحیح طور پر احساس ہو جائے کہ انہیں کتنا کام کرنا چاہئے تھا اور انہوں نے کتنا کیا ہے۔سست لوگ اس بارے میں یہ غذر کیا کرتے ہیں کہ ہم نے کام کرنا ہے یاڈائری لکھنا ہے۔ڈائری لکھنے اور رپورٹ کرنے میں وقت ضائع ہوتا ہے۔یہ غذر در حقیقت نفس کا دھوکا ہوتا ہے۔ڈائری وہی لکھ سکتا ہے جو صحیح طور پر کام کرتا ہے اور جو شخص کام نہیں کرتا وہ ڈائری لکھنے سے گریز کرتا ہے۔ہمارا دنیا سے بہت بڑا مقابلہ ہے۔ہماری یہ ریسرچ انسٹیٹیوٹ دُنیا کی لیبارٹریوں اور