انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 277

انوار العلوم جلد 23 277 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ ہماری تحریک نے ہمیں مجبور کیا ہے کہ ہم دُنیا میں اس بات کا اعلانیہ اظہار کریں کہ توریت اور نبیوں اور انجیل مقدس میں مسیح خداوند اور اس کے حواریوں کے بعد کی بچے نبی کی آمد کی کوئی خبر نہیں۔اس لئے مسیح اور اس کے حواریوں کے بعد کسی کا دعویٰ کی نبوت حق اور قابل وثوق نہیں ہے۔پس ساری باتوں کو آزماؤ اور بہتر کو اختیار کرو۔1۔پھسلنیکیوں 21:5 22 اب اس کے بعد ہم معزز عدالت کی توجہ کے لئے اخبار آزاد 27 فروری 1953ء پنجاب کے عیسائی لیڈر مسٹر ظفر اقبال ظفر کا اعلان نقل کرتے ہیں۔احراری اخبار آزاد عیسائی مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی تحریک کو کامیاب بنائیں گے “ کے زیر عنوان رقمطراز ہے: لاہور 25 فروری۔مسیحی لیڈر مسٹر ظفر اقبال ظفر نے ہے۔اخبارات کو بیان دیتے ہوئے کہا: میں برادرانِ ملت سے پر زور اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس دھوکے اور فریب میں نہ آئیں اور مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی تحریک کو زور شور سے جاری رکھیں۔مرزائی اسلام اور پاکستان کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہیں۔ہم اس تحریک میں برادرانِ ملت کے ساتھ ہیں اور ہم دو قدم آگے بڑھ کر ہر قسم کی جانی اور مالی قربانی دے کر مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کی تحریک کو کامیاب بنائیں گے “۔23 مندرجہ بالا اقتباس میں ”برادرانِ ملت “ کے الفاظ خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔یا مجلس عمل کے اراکین اور عیسائی تو ایک ملت ہیں لیکن جماعت احمد یہ خارج از ملت احرار اور عیسائیوں کے اس اتحاد سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ یہ تحریک در حقیقت مذہبی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔