انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 278

انوار العلوم جلد 23 278 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ (۸) اگر یہ تحریک طبعی ہوتی اور اس کا باعث احمدیت کے مخصوص عقائد و نظریات کا عام مسلمانوں کے لئے طبعاً اشتعال ہونا ہوتا تو چاہئے تھا کہ یہ تحریک بجائے سیاسی لیڈروں کی طرف سے اُٹھائے جانے کے خود عوام کی طرف سے اُٹھتی۔علماء کو اس کے بھڑ کانے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر مسلمان جانتے ہوں کہ فلاں جگہ پر ان کو سور کھلایا جاتا ہے تو کسی عالم کو یہ بتانے کی کیا ضرورت ہو گی کہ تم وہاں نہ جاؤ۔اگر واقع میں لوگوں میں ایسی تعلیمات پر غم اور غصہ پایا جاتا تھا تو پھر کسی شخص کے اشتعال دلانے اور تقریر کرنے کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہزار ہا جھوٹ بولنے کی ضرورت تھی۔وہ علماء کرام جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گڈی پر بیٹھنے کے دعویدار ہیں برابر پانچ سال تک بولتے رہے ہیں، اُن کا جلسے کرنا اور اُن کا لٹریچر شائع کرنا، اُن کا نوٹ بنابنا کر بیچنے کی کوشش کرنا، اُن کا بکروں کی کھالیں طلب کرنا تا کہ لوگوں کو ان باتوں سے واقف کیا جائے بتاتا ہے کہ یہ عوام الناس کی تحریک نہیں تھی بلکہ علماء اسے عوام الناس میں پھیلانا چاہتے تھے تاکہ اس زور اور دباؤ کے ذریعہ سے وہ گورنمنٹ کو مجبور کریں۔اور علماء اس مسئلہ میں غیر جانبدار پارٹی نہیں تھے۔اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ اسلام میں وحی کا سلسلہ جاری ہے تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ اسلام میں مولویوں کی کوئی حیثیت نہیں وہ محض ایک مدرس اور قانون کی تشریح کرنے والے لوگ کہلائیں گے اِس سے زیادہ اِن کو لوگوں پر کوئی حکومت حاصل نہیں۔خدا رسیدہ اور اللہ تعالیٰ سے وحی پانے والے لوگ اگر دُنیا میں آتے رہیں تو PRIESTHOOD کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔PRIESTHOOD اُسی وقت رہتی ہے جب کہ وحی کا زمانہ دور ہو جاتا ہے اور لوگ نقل اور تقلید پر مجبور ہو جاتے ہیں۔موسیٰ علیہ السلام سے لے کر عزرا نبی تک کوئی ملازم نہیں تھا کیونکہ متواتر نبی آتے رہے تھے۔عزرا کے بعد جب نبیوں کے آنے میں وقفہ پڑا تب سے احبار اور رتی وغیرہ پیدا ہونے شروع ہوئے۔جیسا کہ فریسیوں اور صدوقیوں کی تاریخ سے ثابت ہے۔پس علماء کا اس معاملہ میں جوش دکھانا اُن کی ذاتی اغراض کے ماتحت تھا عوام الناس کو اس تحریک سے کوئی تعلق