انوارالعلوم (جلد 23) — Page 276
انوار العلوم جلد 23 276 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ حالانکہ عیسائیوں کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین تو کجا نَعُوذُ بِاللہ نبی بھی نہیں ہیں۔بلکہ اُن کے نزدیک مسیح ناصری خاتم النبیین ہیں۔چنانچہ پنجاب ریلیجس بک سوسائٹی لاہور نے 1953ء میں ایک رسالہ موسومہ بہ ”خاتم النبیین“ شائع کیا جس کے صفحہ 21 پر درج ہے: توریت اور نبیوں کی ان خبروں کو بعض محمدی عالموں نے حضرت محمد عربی پر عائد کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر اس بحث میں علماء محمد پہ نے سخت ندامت اُٹھائی اور بڑی شکست اُٹھا کر خاموش رہ گئے اور انجیل میں مسیح کے یہ الفاظ پڑھ کر مسلمان بڑے خوش ہوئے کہ ”دنیا کا سر دار آتا ہے“۔90 مگر جب ان کو معلوم ہوا کہ یہ خبر شیطان کے بارہ میں ہے تو چپ کر گئے"۔21 ”آخری نبی کی خبروں کے متعلق مسلمان عالموں کی ملمع سازیوں کی حقیقت بے نقاب ہو گئی اور اس بحث کا نہایت عمدہ نتیجہ نکلا کہ یہودیوں اور مسیحیوں کی کتابوں میں محمد صاحب کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔محمد صاحب پچھلے چھ صد سال پہلے مسیح خداوند کا اپنا دعویٰ تھا کہ تورات اور نبیوں کا سابقہ سارا بیان میرے حق میں ہے اور آئندہ کے لئے اس کا تاکیدی فرمان ہے کہ جھوٹے نبیوں سے خبر دار رہیں۔(متی 7:150) مسیح کے قول کی صداقت کے سامنے کسی اور انسان کا کیا اعتبار ہے۔کیونکہ وہی صادق القول اور سچا گواہ ہیں۔مکاشفہ 15:1 و14:13 11:19 و6:22۔اور اس کے مقدس حواریوں نے اس کے بچے قول کی تصدیق میں یہودی قوم کے سرداروں کے سامنے اس حقیقت کا اعلانیہ اقرار اور اظہار کیا کہ مسیح ناصری ہی خاتم النبیین اعمال 30:3 و اعمال 42:10 و پطرس 9:1-11۔پس ہے۔