انوارالعلوم (جلد 23) — Page 250
انوار العلوم جلد 23 250 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ کے بعد کچھ عرصہ تک اسلام کی خوبیاں اور اُس کی اعلیٰ درجہ کی تعلیم حقیقی معنوں میں دُنیا میں قائم ہوتی چلی جائے گی لیکن کچھ عرصہ کے بعد یہ حالت بدل جائے گی اور ایک ہزار سال تک ایسا ہی ہو تا رہے گا۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کی یہی تشریح فرماتے ہیں جو ہم نے اس وقت کی ہے۔آپ فرماتے ہیں خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِى ثُمَّ الَّذِينَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِب 52 یعنی سب سے بہتر تو وہ صدی ہے جس میں میں ہوں۔پھر اس کے بعد دوسری صدی اچھی ہو گی، پھر تیسری صدی اچھی ہو گی، پھر جھوٹ، فریب اور خرابیاں دُنیا میں پھیل جائیں گی۔اور آخری زمانہ کا نقشہ بھی آپ اس آیت کے مطابق کھینچتے ہیں اور فرماتے ہیں لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُه - 53 کہ اُس زمانے میں اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کے صرف حرف باقی رہ جائیں گے۔یعنی قرآن تو نہیں بدلے گا۔قرآن تو موجود رہے گا لیکن قرآن کے سمجھنے والے مٹ جائیں گے۔اور اسلام تو نہیں بدلے گا اسلام تو موجو د رہے گا لیکن اس پر عمل کرنے والے مٹ جائیں گے۔یہی سورہ سجدہ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام اُس وقت سمٹ کر آسمان پر چلا جائے گا۔پھر اس سے بڑھ کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہیں کہ عَلَمَاءُ هُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْتَ أَدِيمِ السَّماءِ - 54 یعنی عوام الناس تو الگ رہے علماء بھی اُس زمانے میں ایسے گر جائیں گے کہ آسمان کے نیچے اُن سے بد تر اور کوئی مخلوق نہ ہو گی۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ اسلام گرتے گرتے ایسی خطرناک حد تک پہنچ جائے گا اور اس کے دشمن اتنی قوت پکڑ جائیں گے کہ حضرت نوح سے لے کر آج تک کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اس فتنہ سے لوگوں کو نہ ڈرایا ہو۔55 اور پھر آپ فرماتے ہیں کہ ایمان اس قدر متزلزل ہو جائیں گے کہ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِى كَافِراً أَوْ يُمْسِيَ مُؤْمِنًا وَ يُصْبِحُ كَافِراً۔5 انسان صبح کے وقت اُٹھے گا تو مومن ہو گا اور شام کے وقت سوئے گا تو کافر ہو گا اور شام کو مومن سوئے گا اور صبح کے وقت کا فر اُٹھے گا۔قرآن کریم کی مذکورہ بالا آیات اور احادیث سے صاف ثابت ہے کہ