انوارالعلوم (جلد 23) — Page 249
انوار العلوم جلد 23 249 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ ہ قیامت کے دن میں دیکھوں گا کہ بعض لوگ حوض کوثر سے ہٹا کر دوسری طرف لے جائے جائیں گے۔اُس وقت میں کہوں گا کہ اُصَيْحَابِی۔یہ تو میری جماعت کے لوگ ہیں۔اس پر خدا تعالیٰ فرمائے گا ”اِنَّكَ لَا تَدْرِى مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ“۔48 تجھے کیا معلوم کہ تیرے بعد ان لوگوں نے کیا کیا ہے۔اسی طرح رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّيْنِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهُمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ - 49 یعنی کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو بظاہر نمازیں بھی پڑھیں گے ، قرآن بھی پڑھیں گے اور بظاہر دوسرے لوگوں سے زیادہ اچھی نمازیں بھی پڑھیں گے لیکن پھر بھی وہ دین اسلام سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر نشان گاہ سے باہر نکل جاتا ہے۔کثرت سے احادیث ایسی پائی جاتی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان بھی بگڑ سکتے ہیں اور بگڑیں گے اور آہستہ آہستہ اُن کی حالت ایسی ہو جائے گی جیسے یہود اور نصاریٰ کی ہوئی ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَتَشْبِعُنَّ سُنَنَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَ ذِرَاعًا بِذِرَاعِ حَتَّى لَوْ دَخَلُوْا فِي جُحْرِ ضَبٍ لَا تَبَعْتُمُوهُمْ قُلْنَا يَا رَسُوْلَ اللهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى؟ قَالَ فَمَنْ“۔50 یعنی ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جب کہ تم لوگ گزشتہ اقوام کے قدم بقدم چلو گے۔یہاں تک کہ اگر انہوں نے گوہ کے سوراخ میں بھی اپنا ہاتھ ڈالا ہو گا تو تم بھی ویسا ہی کرو گے۔صحابہ کہتے ہیں ہم نے پوچھا یار سول اللہ ! کیا ان پہلے لوگوں سے یہود اور نصاریٰ مراد ہیں ؟ آپ نے فرمایا اور کون۔گویا آخر میں مسلمانوں میں یہود اور نصاریٰ والی غلطیاں پید اہو جائیں گی۔قرآن کریم بھی اس کے متعلق فرماتا ہے يُدَيرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُةَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ۔اللہ تعالیٰ اس امر کو یعنی اسلام کو آسمان سے زمین کی طرف لائے گا اور مضبوطی سے قائم کرے گا۔پھر ایک مدت کے بعد وہ آسمان کی طرف چڑھنا شروع ہو جائے گا۔اتنے لمبے زمانے میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے مطابق ہزار سال ہو گی۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم