انوارالعلوم (جلد 23) — Page 251
انوار العلوم جلد 23 251 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارکہ اور آپ کی تعلیم کا ملہ کے ہر گز یہ معنے نہیں کہ اس کی موجودگی میں انسان بگڑ نہیں سکتے بلکہ قرآن کریم اور احادیث اس پر شاہد ہیں کہ نہ صرف یہ کہ اس کی موجودگی میں لوگ بگڑ سکتے ہیں بلکہ وہ بگڑیں گے اور ایسے بگڑیں گے کہ اسلام کی عمارت متزلزل ہو جائے گی اور اسلام کا نام ہی دُنیا میں باقی رہ جائے گا اور قرآن کے حروف ہی دُنیا میں باقی رہ جائیں گے۔حقیقت بالکل غائب ہو جائے گی حتٰی کہ علماء عوام الناس سے بھی بدتر ہوں گے اور وہ دین کی حفاظت کی بجائے دین کو تباہ کرنے والے بن جائیں گے۔اور جب یہ بات قرآن اور احادیث سے ثابت ہے تو دو باتوں میں سے ایک بات ماننی پڑے گی۔یا تو یہ کہ اسلام کے متعلق یہ عقیدہ کہ وہ قیامت تک جائے گا غلط ہے اور یا پھر یہ ماننا پڑے گا کہ ایسی غلطیوں کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے لوگ آتے رہیں گے جو کہ اسلام کی عمارت پھر مر مت کریں اور پھر اُس کو اپنی اصل شکل میں دُنیا کے سامنے پیش کریں۔پہلا خیال تو قرآن اور حدیث کی رُو سے بالکل باطل اور غلط ہے۔قرآن و حدیث اس پر شاہد ہیں اور گواہ ہیں اور پہلی کتب بھی کہ قرآن کریم کی تعلیم قیامت تک ہے۔مسلمانوں کی اصلاح کے لئے مردان پس صرف ایک ہی رستہ کھلا رہتا ہے اور وہ یہ تسلیم کر لینا کہ خدا کے ظہور کے متعلق پیشگوئیاں جب کبھی مسلمانوں میں خرابی پیدا ہو گی اور وہ اسلام سے دور چلے جائیں گے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے آدمی آئیں گے جو اسلام کو اُس کی اصل شکل میں لوگوں کے سامنے ظاہر کریں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَ أَنْ تُشْرِكُوا بِاللهِ مَا لَمْ يُنَزِّلُ بِهِ سُلْطَنَا وَ اَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ - وَلِحْلِ أُمَّةٍ أَجَلْ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ - يُبَنِي آدَمَ إِمَّا يَأْتِيَنَكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ يَقْضُونَ عَلَيْكُمُ ايْتِي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ - 37 محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتو اپنے لوگوں سے کہہ دے کہ میرے خدا نے اسلام