انوارالعلوم (جلد 23) — Page 568
انوار العلوم جلد 23 568 اپنی روایات زندہ رکھو اور مستقل مائو تجویز کرو اور اُنہوں نے اُن سے بہت فوائد اُٹھائے ہیں۔یوروپین قومیں ایسی تقریبات مناتی ہیں اور ایسے مواقع پر سٹوڈنٹس کے علاوہ ماں باپ یا سٹوڈنٹس کے دوسرے قریبی رشتہ داروں کو بھی بلا لیتی ہیں۔ان میں چونکہ پردہ کا رواج نہیں اس لئے اس قسم کی تقریبات پر سٹوڈنٹس کی مائیں بھی آجاتی ہیں اور اُن کے باپ بھی آجاتے ہیں۔ہمارے ہاں پردہ کا رواج ہے اس لئے یہاں خُذْ مَا صَفَا وَدَعْ مَا كَدِرَ کے ماتحت لڑکیوں کے ادارے ماؤں کو بلا لیں اور لڑکوں کے ادارے باپوں کو بلا لیں۔اسی طرح ماں باپ یا دوسرے رشتہ داروں کو اپنے بچوں اور عزیزوں کی سکول کی دیواروں کے پیچھے کی زندگی کا علم ہو جاتا ہے۔ہمارے ملک میں چونکہ ایسا کوئی فنکشن (Function) نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ماں باپ یا دوسرے رشتہ داروں کو اپنے بچوں اور عزیزوں کی سکول لائف دیکھنے کا موقع مل سکے۔اس لئے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دس پندرہ سال تک اپنے بچوں کی سکول لائف سے اس طرح غافل رہتے ہیں جیسے کوئی مرد ایک پردہ دار عورت کی زندگی سے ناواقف ہوتا ہے۔اس طرح باپ بیٹے کے درمیان جو اصلاح کا باہمی تعلق ہے وہ کٹ جاتا ہے۔اسی طرح لڑکیوں کی تعلیم سے ماؤں کو اتنی ناواقفیت ہوتی ہے جتنی انہیں ایک غیر ملک کی عورت سے ہوتی ہے باوجود اس کے کہ سکول ان کے پاس ہوتا ہے اور باوجود اس کے کہ سکول عورتوں کا ہوتا ہے جس میں وہ بآسانی جاسکتی ہیں۔انہیں یہ علم نہیں ہوتا کہ ان کی لڑکیوں کی تعلیم کیا ہے، ان کے کیا حالات ہیں، انہیں کس طرح پڑھایا جاتا ہے۔اس مغائرت کو دُور کرنے کے لئے یوروپین قوموں نے بعض تقریبات مقرر کر رکھی ہیں وہ سال میں ایک یا دو دفعہ ماؤں کو سکول یا کالج میں بلا لیتی ہیں اور مائیں اپنی آنکھوں سے دیکھتی ہیں کہ اُن کی لڑکیاں پڑھ رہی ہیں، کھانا پکارہی ہیں۔یا مثلاً ایسے موقع پر کسی لڑکی نے انعام حاصل کیا ہو تو ماؤں کو اس طرح توجہ پیدا ہو جاتی ہے کہ اُن کی لڑکی بھی محنت کرے اور انعام حاصل کرے۔یا وہ دیکھتی ہیں کہ سکول یا کالج کی لڑکیاں مہذب اور شائستہ ہیں اور ان کی لڑکی اکھڑ مزاج ہے ، اس کا طور و طریق ان کا سا نہیں تو وہ ادارے سے تعاون کر کے اپنی لڑکی کی اصلاح