انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 567 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 567

انوار العلوم جلد 23 567 اپنی روایات زندہ رکھو اور مستقل مائو تجویز کرو جن کے درمیان کوئی بندھن نہیں ہوتا اور نہ اُن پر ملاح سوار ہوتے ہیں بلکہ وہ پانی کی رو کے ساتھ بہتی چلی جاتی ہیں۔ایسی کشتیوں سے کوئی انسان، کوئی قوم اور کوئی ملک فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔پس سابقہ روایات یا باپ دادوں کی حکایات اور اُن کا طور و طریق راہ نمائی کے لئے نہایت ضروری ہیں لیکن بد قسمتی سے مسلمانوں نے اُسے نظر انداز کر دیا جس کی وجہ سے اگر آج ہم اپنے باپ دادوں کا طور و طریق اور اُن کی عادات اور روایات معلوم کرنا چاہیں تو ہمارے لئے مشکل پیش آجاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ صحابہ سے نیچے اتر کر ہم اپنے باپ دادا کے حالات کو نہیں جانتے۔حالانکہ ملک کے مختلف حالات جو کسی متمدن قوم پر گزرتے ہیں وہ مسلمانوں کے درمیانی عرصہ میں گزرے صحابہ پر نہیں گزرے۔صحابه چند غریب اور سادہ طبع لوگ تھے۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو وہ آپ پر ایمان لے آئے اور پھر اللہ تعالیٰ کی مدد سے اسلام کو پھیلاتے رہے۔صحابہ کے وقت نہ تو متمدن حکومتیں تھیں، نہ اُن کے وقت میں وہ دفاتر تھے جن کی متمدن حکومتوں کو ضرورت ہوتی ہے۔نہ اُن کے زمانہ میں کوئی تمدنی ترقی ہوئی یعنی نہ اُن کے زمانہ میں سڑکیں بنائی گئیں، نہ نہریں کھودی گئیں، نہ پل بنائے گئے۔اس کے لئے انہیں فرصت ہی نہیں تھی۔بنو امیہ کے زمانہ میں مسلمانوں کو اس قسم کے کاموں کے لئے فرصت ملی اور اُنہوں نے بہت سا کام بھی کیا لیکن افسوس کہ اس زمانہ کے تمدنی حالات محفوظ نہیں جس کی وجہ سے ہم اپنے شاندار ماضی سے کٹ گئے ہیں لیکن پھر بھی جو کچھ ہمارے پاس موجود ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم اُسے قائم رکھیں اور اس کے ساتھ رشته و تعلق قائم کریں تاکہ ہماری مثال ایک پل کی سی ہو جائے نہ کہ اُن کشتیوں کی سی جو کسی رسہ سے بندھی ہوئی نہ ہوں اور پانی کی رو کے ساتھ ساتھ بہتی چلی جارہی ہوں کیونکہ اُن کا کوئی مصرف نہیں ہو تا۔میں بتارہا تھا کہ مسلمانوں میں اس قسم کی تقریبات نہیں تھیں یا موجود تھیں تو اُنہوں نے ان سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا لیکن یوروپین لوگوں میں ان تقریبات کا رواج ہے