انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 569

انوار العلوم جلد 23 کی کوشش کرتی ہیں۔569 اپنی روایات زندہ رکھو اور مستقل ماٹو تجویز کرو پس ایک تو اس تقریب اپنی ماؤں کو بھی اس تقریب میں لاؤ کو اس بات کا ذریعہ بناؤ کہ لڑکیوں کی ماؤں اور ان کی دوسری بزرگ عورتوں کو ان تقریبات میں بلاؤ تا کہ وہ اپنی لڑکیوں کی سکول لائف سے واقف ہوں اور تا وہ تمہارے ادارہ سے تعاون کرتے ہوئے اپنی لڑکیوں کی مناسب اصلاح کر سکیں۔مجھ پر یہ اثر ہے کہ اس وقت غالباً کالج کی لڑکیوں کے علاوہ سکول کی لڑکیوں کو بلا لیا گیا ہے یا ان کے علاوہ بعض ان لحاظ والی عور توں کو بلالیا گیا ہے جن کا بلانا مناسب سمجھا گیا ہے۔حالانکہ چاہئے تھا کہ لڑکیوں کی ماؤں یا بڑی عورتوں کو اِس موقع پر خصوصیت سے دعوت دی جاتی کہ وہ یہاں آئیں اور اس تقریب میں شامل ہو کر اپنی لڑکیوں کی تعلیم و تربیت ، اُن کے کام اور طور و طریق کو خود دیکھیں اور معلوم کریں کہ کیا اُن کی لڑکیاں تعلیمی لحاظ سے ترقی کر رہی ہیں؟ دوسرا فائدہ اس کا یہ بھی ہوتا ہے کہ اس طرح لڑکیوں کے رشتہ داروں کو سکول یا کالج سے محبت ہو جاتی ہے۔تیسرے جب انہیں اپنی لڑکیوں کی تعلیمی زندگی سے واقفیت ہو جاتی ہے تو اُن میں غیریت اور اجنبیت کا احساس باقی نہیں رہتا اور باوجود اس کے کہ اُن کی لڑکیاں سکول کی دیواروں کے پیچھے ہوتی ہیں وہ انہیں ان دیواروں کے پیچھے سے بھی نظر آتی رہتی ہیں۔اس تمہید کے بعد میں کالج کی منتظمات اور طالبات کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے ٹریڈیشنز (Traditions) نہایت ضروری چیز ہیں۔ٹریڈیشنز یعنی روایات سابقہ انسان کے مستقبل کے بنانے میں بڑی ممد ہوتی ہیں اور اس کے ذریعہ انسان کی زندگی کی کایا پلٹ جاتی ہے۔دُنیا کے تمام انسان ایک شخص یعنی آدم کی نسل سے پیدا ہوئے ہیں اور سائنس کی تھیوری کو لے لیا جائے تب بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ تمام قبائل اور قومیں کسی نہ کسی کی نسل سے چلی ہیں۔پس ساری دُنیانہ سہی تم قبائل اور قوموں کو ہی لے لو، اُن پر نظر دوڑانے سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ