انوارالعلوم (جلد 23) — Page 415
انوار العلوم جلد 23 415 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ ان کی آریہ سماج کے مقابلہ کی تحریروں سے اس دعویٰ پر نہایت صاف روشنی پڑتی ہے کہ آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کسی درجہ تک وسیع ہو جائے ناممکن ہے کہ یہ تحریریں نظر انداز کی جاسکیں۔۔۔۔۔۔۔مرزا صاحب کا دعویٰ تھا کہ میں ان سب کے لئے حکم و عدل ہوں لیکن اس میں کلام نہیں کہ ان مختلف مذاہب کے مقابلہ پر اسلام کو نمایاں کر دینے کی اُن میں مخصوص قابلیت تھی اور یہ نتیجہ تھا اُن کی فطری استعداد کا، ذوقِ مطالعہ اور کثرت مشق کا۔آئندہ اُمید نہیں ہے کہ ہندوستان کی مذہبی دُنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو جو اپنی اعلیٰ خواہشیں محض اس طرح مذہب کے مطالعہ میں صرف کر دے“۔اس بیان کے علاوہ ہم جماعت احرار کے لئے ہم اُن کے لیڈر چوہدری افضل حق صاحب کی ایک رائے بھی بیان کر دینا ضروری سمجھتے ہیں جس سے احراریوں کے دعویٰ کی حقیقت کھل جاتی ہے۔وہ لکھتے ہیں:۔آریہ سماج کے معرض وجود میں آنے سے پیشتر اسلام جسدِ بے جان تھا جس میں تبلیغی جس مفقود ہو چکی تھی۔سوامی دیانند کی مذہب اسلام کے متعلق بدظنی نے مسلمانوں کو تھوڑی دیر کے لئے چوکنا کر دیا مگر حسب معمول جلدی خواب گراں طاری ہو گئی۔مسلمانوں کے دیگر فرقوں میں تو کوئی جماعت تبلیغی اغراض کے لئے پیدا نہ ہو سکی۔ہاں ایک دِل مسلمانوں کی غفلت سے مضطرب ہو کر اُٹھا۔ایک مختصر سی جماعت اپنے گرد جمع کر کے اسلام کی نشر و اشاعت کے لئے بڑھا۔اگرچہ مرزا غلام احمد صاحب کا دامن فرقہ بندی کے داغ سے پاک نہ ہوا۔تاہم اپنی جماعت میں وہ اشاعتی تڑپ پیدا کر گیا جو نہ صرف مسلمانوں کے مختلف فرقوں کے لئے