انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 416

انوار العلوم جلد 23 416 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ قابل تقلید ہے بلکہ دُنیا کی تمام اشاعتی جماعتوں کے لئے نمونہ 66 ہے “۔373 سوال نمبر 7 متعلق اعتراض عدم همدردی مسلمانان ہفتم یہ کہا جاتا ہے کہ اُنہوں نے مسلمان حکومتوں اور مسلمان تحریکوں سے کبھی ہمدردی نہیں کی۔افسوس ہے کہ جماعت اسلامی، مجلس عمل اور احرار نے اس معاملہ میں بھی غلط بیانی سے کام لیا ہے۔ہمارے زمانے کی بڑی بڑی مشہور اسلامی حکومتیں ترکی، عرب، مصر، ایران، افغانستان اور انڈونیشیا ہیں۔بانی سلسلہ احمدیہ کے زمانہ میں صرف ترکی کی حکومت تھی جو مسلمانوں کے سامنے آئی تھی۔ایران تو بالکل نظر انداز تھا اور افغانستان ایک رنگ میں انگریزوں کے ماتحت حکومت تھی۔بانی سلسلہ احمدیہ کے سامنے کوئی ایسی جنگ نہیں ہوئی جس میں ترکی اور یورپ کی بڑی طاقتوں کو آپس میں لڑنا پڑا ہو۔سوائے اس جنگ کے جو کہ یونان کے ساتھ ہوئی تھی اور بانی سلسلہ احمدیہ نے اس معاملہ میں ترکی کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔جماعت احمدیہ کی طرف سے ترکی حکومت کی تائید آپ کے بعد دوسری جنگ ترکی اور اٹلی کے درمیان ہوئی جس میں جماعت احمدیہ نے ترکی سے ہمدردی ظاہر کی اور اٹلی کے خلاف جذبات کا اظہار کیا۔تیسری جنگ ترکی اور اتحادی قوموں کے ساتھ ہوئی جس میں ترکی اپنی اغراض کے لئے نہیں کھڑا ہوا تھا بلکہ جرمن کی تائید کے لئے کھڑا ہوا تھا۔لازماً اتحادی قوموں نے اپنی اپنی حکومتوں کی مدد کی۔وہ وقت کسی ہمدردی کے اظہار کا تھا ہی نہیں۔تمام مسلمانوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ترکی کی شکست کے بعد تحریک خلافت پیدا ہوئی لیکن اپنے ہاتھوں سے ترکی کی حکومت کو تباہ کرنے کے بعد خلافت کا شور مچانا یہ تو کوئی پسندیدہ طریق