انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 414

انوار العلوم جلد 23 414 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ زبر دست طاقتیں اس حملہ آور کی نسبت گرمی کے لئے ٹوٹی پڑتی تھیں اور دوسری طرف ضعف مدافعت کا یہ عالم تھا کہ تو پوں کے مقابلہ پر تیر بھی نہ تھے اور حملہ اور مدافعت دونوں کا قطعی وجو د ہی نہ تھا۔چونکہ خلافِ اصلیت محض شامت اعمال سے مفسدہ 1857ء کا نفس ناطقہ مسلمان ہی قرار دیئے گئے تھے۔اس لئے مسیحی آبادیوں اور خاص کر انگلستان میں مسلمانوں کے خلاف پولیٹیکل جوش کا ایک طوفان برپا تھا اور اس سے پادریوں نے صلیبی لڑائیوں کے داعیان راہ سے کم فائدہ نہ اُٹھایا۔قریب تھا کہ خوفناک مذہبی جذبے ان حضرات کے میراثی عارضہ قلب کا جو اسلام کی خودرو سر سبزی کے سبب بارہ تیرہ صدیوں سے ان میں نسلاً بعد نسل منتقل ہوتا چلا آیا تھا درمان ہو جائے کہ مسلمانوں کی طرف سے وہ مدافعت شروع ہوئی جس کا ایک حصہ مرزا صاحب کو حاصل ہوا۔اِس مدافعت نے نہ صرف عیسائی مذہب کے اس ابتدائی اثر کے پر خچے اڑا دیئے جو سلطنت کے زیر سایہ ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس کے اس زیادہ خطر ناک اور مستحق کامیابی حملہ کی زد سے بچ گئے بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہو کر اُڑنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گران بار احسان رکھے گی کہ اُنہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے وہ فرضِ مدافعت ادا کیا اور ایسالٹریچر یاد گار چھوڑا جو اُس وقت تک کہ مسلمان کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جذبہ اُن کے شعار قومی کا عنوان نظر آئے، قائم رہے گا۔اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں مرزا صاحب نے اسلام کی بہت خاص خدمت انجام دی ہے۔