انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 275

انوار العلوم جلد 23 275 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ 1881ء یا 1882ء میں آپ نے براہین احمدیہ کی تصنیف کا اعلان دیا اور ہم اس کتاب کے اول خریداروں میں سے تھے “۔89 (ح) ایڈیٹر ”صادق الاخبار ریواڑی مولوی بشیر الدین صاحب جو سرسید احمد خان صاحب کے ساتھیوں میں سے تھے اور مسلمانوں کے لیڈروں میں شامل تھے آپ کی وفات پر تحریر فرماتے ہیں: ”چونکہ مرزا صاحب نے اپنی پر زور تقریروں اور شاندار تصانیف سے مخالفین اسلام کے لچر اعتراضات کے دندان شکن جواب دے کر ہمیشہ کے لئے ساکت کر دیا ہے اور کر دکھایا ہے کہ حق حق ہی ہے اور واقعی مرزا صاحب نے حق حمایت اسلام کما حقہ ، ادا کر کے خدمتِ اسلام میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔انصاف متقاضی ہے کہ ایسے اولوالعزم حامی اسلام اور معین المسلمین، فاضل اجل، عالم بے بدل کی ناگہانی اور بے وقت موت پر افسوس کیا جائے“۔یہ سب اقتباسات اس امر کے ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ جماعت احمدیہ کے خلاف 1953ء کے حالیہ فسادات احمدیت کی تعلیم اور نظریات کے اشتعال انگیز ہونے کے باعث نہ تھے بلکہ اُس اشتعال انگیز اور منافرت خیز پروپیگنڈے کا نتیجہ تھے جو مجلس احرار اور مجلس عمل کے اراکین نے قیام پاکستان کے بعد جماعت احمدیہ کے خلاف کیا۔(6) اس امر کا ایک اور ثبوت کہ یہ تحریک کسی طبعی جذبے کا نتیجہ نہ تھی بلکہ انجینئرڈ تھی یہ بھی ہے کہ اگر یہ تحریک احمدیت کے نظریات کے باعث اشتعال ہونے کی وجہ سے ہوتی تو سب سے پہلے بہائیوں اور کمیونسٹوں کے خلاف اُٹھتی جو پاکستان میں بکثرت موجود ہیں اور ایک زبر دست تنظیم کے ساتھ پاکستان میں منظم پروپیگینڈا کے ذریعہ اپنی تعداد کو بڑھا رہے ہیں۔(7) اس تحریک کے غیر مذہبی اور غیر طبعی ہونے کا ایک زبر دست ثبوت یہ بھی ہے کہ اس تحریک میں تحفظ ختم نبوت کے نام پر احرار نے پنجاب کے عیسائیوں کو بھی شامل کیا۔