انوارالعلوم (جلد 23) — Page 274
انوار العلوم جلد 23 274 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اور ایسا لٹریچر یاد گار چھوڑا جو اُس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جذبہ ان کے شعار قومی کا عنوان نظر آئے، قائم رہے گا “۔86 (ب) علیگڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ نے لکھا: مرحوم ایک مانے ہوئے مصنف اور مرزائی فرقہ کے بانی تھے۔۔۔۔۔کئی دفعہ آپ کو کافر قرار دیا گیا اور آپ پر اکثر مقدمات کئے گئے۔۔۔۔۔بے شک مرحوم اسلام کا ایک بڑا پہلوان تھا“۔87 (ج) تہذیب نسواں لاہور کے مدیر شمس العلماء مولانا ممتاز علی صاحب لکھتے ہیں: ” مرزا صاحب مرحوم نہایت مقدس اور برگزیدہ بزرگ تھے وو اور نیکی کی ایسی قوت رکھتے تھے جو سخت سے سخت دلوں کو تسخیر کر لیتی تھی۔وہ نہایت باخبر عالم، بلند ہمت، مصلح اور پاک زندگی کا نمونہ تھے “ 88 (1) اخبار زمیندار کے مدیر مولانا ظفر علی خان صاحب کے والد ماجد مولوی سراج دین صاحب تحریر فرماتے ہیں: مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے 26 مئی کی صبح کو لاہور میں انتقال فرمایا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيهِ رَاجِعُونَ۔۔۔۔۔مرزا غلام احمد صاحب 1860ء یا 1861ء کے قریب ضلع سیالکوٹ میں محرر تھے۔اُس وقت آپ کی عمر بائیس چوبیس سال کی ہو گی اور ہم چشم دید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔کاروبار ملازمت کے بعد ان کا تمام وقت مطالعہ دینیات میں صرف ہوتا تھا۔عوام سے کم ملتے تھے۔1877ء میں ہمیں ایک شب قادیان میں آپ کے ہاں مہمانی کی عزت حاصل ہوئی۔اُن دنوں بھی آپ عبادت اور وظائف میں اس قدر محود مستغرق تھے کہ مہمانوں سے بھی بہت کم گفتگو کرتے تھے۔