انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 535

انوار العلوم جلد 23 535 حقیقی اسلام تیزی کے ساتھ نکل آئے۔بادشاہ نے جب یہ سنا تو اس نے کہا ان لوگوں کو کسی طرح پکڑو اور ان سے یہ مٹی واپس لو مگر وہ اُس وقت تک گھوڑے دوڑاتے ہوئے کہیں کے کہیں نکل چکے تھے۔یہ ہے اسلام کی صحیح سپرٹ۔وہ لوگ خدا کے سوا اور کسی کو نہیں جانتے تھے اور اسی کی بادشاہت زمین اور آسمان میں تسلیم کرتے تھے۔مسیح ناصری صرف اس نکتہ تک پہنچا کہ آسمان پر تو خدا کی بادشاہت ہے لیکن زمین پر ابھی اس کی بادشاہت قائم نہیں ہوئی۔چنانچہ اس نے اپنے حواریوں کو یہ دعا سکھلائی کہ اے خدا! جس طرح تیری بادشاہت آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر بھی آئے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا کہ جس طرح اس کی بادشاہت آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر بھی ہے۔اس سے دونوں نبیوں کی شان اور رفعت کا کیسا امتیاز ظاہر ہوتا ہے۔مسیح نے سمجھا کہ خد اتعالیٰ کی بادشاہت زمین پر آسکتی ہے لیکن ابھی نہیں آئی۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اس کی بادشاہت جس طرح آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر بھی موجود ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کی بادشاہت کے سوا اور کسی کی بادشاہت ہے ہی نہیں۔یہ چیز ایسی تھی جس نے صحابہ کو بالکل نڈر بنا دیا تھا کیونکہ جب کوئی شخص صرف خدا کو اپنا بادشاہ مانے گا تو وہ کسی اور سے ڈرے گا کیوں؟ اسے تو ہر چیز مٹی کابت نظر آئے گی۔چاہے اسے حکم دینے والا جرنیل ہو کر نیل ہو یا کوئی اور ہو۔وہ کہے گا کہ میر اخد امیرا حاکم ہے اور وہ میرے ساتھ ہے۔اسی روح اور اس جذبے کا نام حقیقی اسلام ہے۔حقیقی اسلام فقہ کی ان باریکیوں کا نام نہیں جو کتابوں میں بھری پڑی ہیں۔حقیقی اسلام اس تفصیل کا نام نہیں جو حدیثوں میں موجود ہے۔حقیقی اسلام اس تشریح کا نام نہیں جو علم الکلام والوں نے کی ہے۔حقیقی اسلام اس سپرٹ کا نام ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی بادشاہت اپنے دل پر قائم کر لے۔وہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی کے سامنے اپنا سر نہ جھکائے اور اللہ کو زندہ اور قادرو توانا خدا سمجھے۔اگر یہ بات نہیں تو نوح علیہ السلام کے ماننے والے کس طرح مسلم کہلائے، ابراہیم علیہ السلام کے ماننے والے کس طرح مسلم کہلائے۔ان کے سامنے