انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 536

انوار العلوم جلد 23 536 حقیقی اسلام نہ قرآن تھا، نہ حدیث تھی مگر پھر بھی وہ مسلم تھے۔اس کی وجہ یہی تھی کہ اُنہوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ جو کچھ خدا کہے گاوہ ہم نے کرنا ہے۔اور جب کوئی قوم یہ فیصلہ کر لیتی ہے کہ میں نے وہی کچھ کرنا ہے جو خدا کہے گا اس کے دل میں خدا آکر بس جاتا ہے۔اور جس کے دل میں خدا بس جائے اسے دنیا کی کوئی قوم مٹانے کی طاقت نہیں رکھتی کیونکہ جو اُس پر پر حملہ کرتا ہے وہ خدا پر حملہ کرتا ہے اور خدا کو مارنے کی کسی میں طاقت نہیں۔بہر حال میں دوستوں کو مختصر 1 اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آپ لوگوں کو ایک نام تو خدا تعالیٰ نے بخش دیا ہے اس میں آپ کا کوئی کمال نہیں۔جس دن آپ کے باپ دادا آج سے ہزار یا نو سو سال پہلے مسلمان ہوئے تھے اُسی دن آپ کو یہ نام مل گیا تھا لیکن اس نام کے باوجو د جیسا کہ آپ لوگ خود جانتے ہیں کئی دوست جب علیحدہ اپنے دوستوں میں بیٹھتے ہیں تو کہتے ہیں اس دنیا کا کوئی خدا نہیں، کئی قیامت کا انکار کر دیتے ہیں، کئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے متعلق اپنے شکوک کا اظہار کرتے ہیں لیکن پھر اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے ہیں۔میں جب حج کے لئے گیا تو دو مسلمان اور ہندو بیرسٹر بھی اس جہاز میں سفر کر رہے تھے۔وہ تینوں سارا دن خدا اور مذہب پر ہنسی اُڑاتے رہتے تھے۔ایک دن باتوں باتوں میں ہندو بیرسٹر نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بے ادبی کا لفظ کہہ دیا۔اس پر ان دونوں کے چہرے سرخ ہو گئے اور انہوں نے کہا خبر دار ! آئندہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ لفظ استعمال نہ کیا جائے۔میں چونکہ روزانہ ان کے اعتراضات کا تختہ مشق بنا رہتا تھا اس لئے میں نے ہنس کر کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو خدا تعالیٰ کے نائب تھے۔آپ تو خدا تعالیٰ کے وجود کے ہی قائل نہیں۔اگر اس دنیا کا کوئی خدا نہیں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں سے آگئے ؟ وہ کہنے لگے ٹھیک ہے ہم خدا کو نہیں مانتے لیکن ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی بے ادبی کا لفظ نہیں سن سکتے۔اسی طرح 1924ء میں جب میں یورپ گیا تو ایک انگریز دہر یہ مجھ سے ملنے