انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 470

انوار العلوم جلد 23 470 قرآن مجید کی بیان کردہ تین صداقتیں سائنس کی۔۔۔نہیں ہے۔سب اشیاء میں ترکیب پائی جاتی ہے۔فرمایادَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ 1 دوم۔قرآن کریم کہتا ہے کہ اشیاء کی وہ ترکیب ہر وقت عمل (work) کر رہی ہے۔یعنی اس کے نتائج کا ایک سلسلہ جاری ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شان 2 کہ اللہ تعالیٰ ہر وقت نئی شان اور ترکیب کے ساتھ تجلی فرماتا ہے۔جس کے یہ معنی ہیں کہ کائنات عالم کی تمام چیزیں اس کی اس تجلی سے متاثر ہوتی ہیں اور ان مرکب اشیاء کا سلسلہ کسی جگہ پر ٹھہر نہیں جاتا بلکہ آگے ہی آگے چلتا ہے۔گویا ہر وقت نئے نتائج پیدا ہو رہے ہیں۔الف اور ب کے ملنے سے ج پیدا ہوتا ہے۔پھر ج اور دکے ملنے سے س پیدا ہوتا ہے۔غرض اسی طرح ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔سوم۔قرآن کریم کہتا ہے کہ ان تمام اشیاء اور ان کی ترکیب اور اُس ترکیب سے پیدا ہونے والے نتائج کے اسرار کو معلوم کرنا تمہارا کام ہے۔اس کام کو سر انجام دینے والے ہی اللہ تعالیٰ کے عظمند ہیں۔الَّذِينَ يَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبُحْنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ - 3 وہ لوگ جو آسمان و زمین کی پیدائش کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں اور بالآخر اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ اے خدا! تو نے اس کار خانہ کو بے حکمت پیدا نہیں کیا۔تو پاک ہے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا۔پھر قرآن مجید بھی وعدہ کرتا ہے کہ جو لوگ قوانین الہی میں غور کریں گے اور کائنات عالم کی حکمتوں کو سوچیں گے ان پر ان کے اسرار ضرور کھولے جائیں گے اور دُنیا کے ذرہ سے لے کر خود خدا تعالیٰ تک اُن لوگوں کے لئے کامیابی کا راستہ کھلے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔4 کہ جو لوگ ہمارے پیدا کر دہ عالم کے متعلق اور ہم تک پہنچنے کے لئے صحیح طریق سے کوشش کریں گے ہم اُن پر کامیابی کے راستے ضرور کھولیں گے۔یہ تین اہم صداقتیں ہیں جن کا قرآن کریم اعلان کرتا ہے اور مسلمانوں کو ان کی طرف توجہ دلاتا ہے اور یہی تین امور سائنس کی بنیاد ہیں۔ان حالات میں کس قدر تعجب کی بات ہو گی کہ مسلمان کا ئنات عالم سے غفلت اختیار کریں۔