انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 377

انوار العلوم جلد 23 377 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ میرے حقیقی بھائی مرزا غلام قادر مرحوم کی جن کا تذکرہ سرکاری چٹھیات اور سر لیپل گریفن کی کتاب ”تاریخ رئیسان پنجاب“ میں ہے اور نیز میری قلم کی وہ خدمات جو میری اٹھارہ سال کی تالیفات سے ظاہر ہیں سب کی سب ضائع اور برباد نہ جائیں اور خدانخواستہ سر کار انگریزی اپنے ایک قدیم وفادار اور خیر خواہ خاندان کی نسبت کوئی تکدر خاطر اپنے دل میں پیدا کرے۔اِس بات کا علاج تو غیر ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کا منہ بند کیا جائے کہ جو اختلاف مذہبی کی وجہ سے یا نفسانی حسد اور بغض اور کسی ذاتی غرض کے سبب سے جھوٹی مخبری پر 32266 کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔صرف یہ التماس ہے کہ سر کار دولتمدار۔۔۔اس کے آگے وہ عبارت شروع ہوتی ہے جو عدالت میں پڑھ کر سنائی گئی ہے۔اِس عبارت سے مندرجہ ذیل امور مستنبط ہوتے ہیں:۔(الف) بعض دُشمنوں نے جن میں بعض حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ذاتی اور خاندانی دشمن بھی تھے انگریزی حکومت میں یہ مخبری کی کہ آپ گورنمنٹ کے باغی ہیں۔(ب) آپ کو یہ خطرہ لاحق ہوا کہ ان جھوٹی مخبریوں کو گورنمنٹ انگریزی بھی درست تسلیم کر کے سچ سچ آپ کو باغی نہ سمجھ لے۔(ج) چونکہ یہ الزام محض جھوٹا اور بے بنیاد تھا۔اس لئے آپ نے اس کی پر زور الفاظ میں تردید فرمائی اور اپنے خاندان کی حکومت انگریزی سے وفاداری کا ثبوت پیش ا کیا۔(1) "خود کاشتہ پودا“ کے الفاظ آپ نے اپنی جماعت کی نسبت نہیں بلکہ اپنے خاندان کی نسبت استعمال فرمائے۔علاوہ ازیں اشتہار جس کی عبارت کانٹ چھانٹ کر پیش کی گئی ہے۔مندرجہ ذیل الفاظ سے شروع ہوتا ہے:۔” بسا اوقات ایسے نئے فرقہ کے دُشمن اور خود غرض جن کی