انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 376

انوار العلوم جلد 23 اور 376 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ تبلیغ رسالت جلد 7 صفحہ 17 کے حوالے سے یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے انگریزوں کی تعریف کی ہے۔خود کاشتہ پودا کا جواب" سب سے پہلے تبلیغ رسالت جلد 7 صفحہ 19 کے حوالہ سے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی عبارت پیش کی گئی ہے جس میں ”خود کاشتہ پودا کا فقرہ استعمال ہوا ہے۔چونکہ یہ حوالہ مجلس عمل کی طرف سے عدالت میں پیش کرنے کے علاوہ بکثرت شائع بھی کیا گیا ہے اور ہر جلسہ میں اسے پیش کر کے بہ شد و مد یہ الزام لگایا گیا ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے خود تسلیم کر لیا ہے کہ جماعت احمدیہ انگریزوں کا خود کاشتہ پودا ہے اور اُنہوں نے مسیح موعود اور مہدی ہونے کا دعویٰ انگریزوں کے ایماء پر کیا تھا۔چونکہ یہ پروپیگینڈا بہت وسیع پیمانہ پر کیا گیا ہے اس لئے ہم مناسب خیال کرتے ہیں کہ اس موقع پر اس کا کسی قدر تفصیلی جواب عرض کریں۔نقل عبارت میں تحریف سب سے پہلی بات جس کی طرف ہم معزز عدالت کو توجہ دلانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ اس عبارت کو پیش کرنے میں ذمہ داری سے کام نہیں لیا گیا اور اصل عبارت کے ابتدائی الفاظ جن سے حقیقت حال پر روشنی پڑتی تھی حذف کر دئے گئے ہیں۔اصل عبارت یوں ہے:- ” مجھے متواتر اس بات کی خبر ملی ہے کہ بعض حاسد بد اندیش جو بوجہ اختلاف عقیدہ یا کسی اور وجہ سے مجھ سے بغض اور عداوت رکھتے ہیں یا جو میرے دوستوں کے دُشمن ہیں۔میری نسبت اور میرے دوستوں کی نسبت خلاف واقعہ اُمور گورنمنٹ کے معزز حکام تک پہنچاتے ہیں اس لئے اندیشہ ہے کہ ان کی ہر روز کی مفتریانہ کارروائیوں سے گورنمنٹ عالیہ کے دل میں بد گمانی پیدا ہو کر وہ تمام جانفشانیاں پچاس سالہ میرے والد مرحوم مرزا غلام مرتضیٰ اور