انوارالعلوم (جلد 23) — Page 324
انوار العلوم جلد 23 324 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اس لئے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ ”الفضل“ میں اور دوسری احمدی تحریروں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کو خاندانِ نبوت کی بجائے خاندان مسیح موعود لکھا جایا کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جتنے دعاوی ہیں وہ سارے کے سارے مسیح موعود کے لفظ میں شامل ہو جاتے ہیں کیونکہ یہی نام آپ کا حاوی نام ہے۔پس خاندانِ مسیح موعود کہنے سے وہ تمام باتیں اس خاندان کی طرف منسوب ہو جاتی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے تعلق کی وجہ سے ان کی طرف منسوب ہو سکتی ہیں۔اصل سوال تو یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا خاندان اپنے عمل سے اپنے آپ کو اُس مقام کا اہل ثابت کرے جو مقام خدا تعالیٰ نے ان کو بخشا ہے۔اگر ان میں سے ہی بعض دُنیا کے کاموں میں لگ جائیں اور روٹی انہیں خدا تعالیٰ پر مقدم ہو تو انہیں خاندانِ نبوت کہا جائے یا خانوادہ الوہیت کہا جائے بلکہ خواہ خدا ہی کہہ دیا جائے ہر تعریف اُن کے لئے ہتک کا ہی موجب ہو گی کسی عزت کا موجب نہیں ہو گی۔بلکہ یہ سمجھا جائے گا کہ ان کی تعریف کرنے والے لوگ ان کو زیادہ سے زیادہ خدا تعالیٰ سے پھر انا چاہتے ہیں۔200 "۔ہو اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ موجودہ امام جماعت احمدیہ کے نزدیک بھی لفظ نبی کا ایسا استعمال جس سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے توجہ ہٹتی : احمدی جماعت کے لئے جائز نہیں۔پس اس بارہ میں جن خیالات کا بھی اظہار ہوا ہے محض اپنی جماعت کے ایک کمزور حصّہ کی اصلاح کے لئے ہوا ہے اور ہر گز دوسرے فرقہ اسلام کو مد نظر رکھ کر اس لفظ پر زور نہیں دیا گیا۔جہاں جہاں بھی یہ بات بحث میں آئی ہے یا تو کسی معترض کے جواب میں آئی ہے یا اپنی جماعت کے کمزور لوگوں کی اصلاح