انوارالعلوم (جلد 23) — Page 325
انوار العلوم جلد 23 325 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ کے لئے آئی ہے۔اور اس سے صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ احمدی جماعت کسی مستقل نبوت کی قائل نہیں بلکہ وہ اس اُمت کا نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی سمجھتے ہیں اور قیامت تک انہیں کی نبوت کو جاری سمجھتے ہیں۔آخر میں ہم ایک حوالہ سیّد عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کا درج کر کے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ نبوت کے متعلق خواہ کوئی بھی اختلاف کیا جائے بہر حال احرار اور اُن کے ساتھیوں نے یہ سوال مذہب کی وجہ سے نہیں اُٹھایا بلکہ سیاست کی وجہ سے اُٹھایا ہے۔چنانچہ سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے اپنی ایک تقریر میں بیان کیا:- یہ الگ بات ہے کہ سچا تھا، یا جھوٹا۔یہ تو چیز ہی بالکل بے معنی ہے۔فرض کر لو اگر وہ سچا ہوتا اور نبوت کا دعویٰ کرتا تو کیا ہم مان لیتے ؟ “201 اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ سیّد عطاء اللہ شاہ صاحب کی مخالفت مذ ہبی نہیں تھی کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ اگر مرزا صاحب سچے بھی ہوتے تو بھی ہم اُن کو مان نہیں سکتے تھے۔جس کے معنی دوسرے لفظوں میں یہ بنتے ہیں کہ اگر مرزا صاحب کے ماننے کا خدا بھی حکم دیتا تو بھی ہم نہ مانتے۔پس صاف ظاہر ہے کہ یہ مذہبی مخالفت نہیں۔اگر مذہبی مخالفت ہوتی تو خدا اور اُس کے رسول کی تائید میں ہوتی۔عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری فرماتے ہیں ” کہ خدا بھی کہے تو ہم نہیں مانیں گے جس کے معنی یہ ہیں کہ ہمارے سیاسی فوائد اُن کے نہ ماننے میں ہیں۔اس لئے ہم مذہب کی کوئی پرواہ نہیں کریں گے۔دوسرا حوالہ بھی سیّد عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کا ہی ہے۔وہ فرماتے ہیں:۔اگر نبی ہی ماننا ہے تو خدا کی قسم ! جناح کو نبی مان لو۔اگر اُسے نہیں مانا تو مجھے ہی مان لو۔ارے! کوئی آدمی تو ہو۔۔۔۔۔اگر مسلمانو! تم تیرہ سو سال کی نبوت سے تنگ آگئے ہو تو قائد اعظم ہی کو نبی مان لو“ 202 اس حوالہ سے بھی ظاہر ہے کہ ایمان کو سیاست کا ذریعہ قرار دیا جاتا ہے ایمان کو