انوارالعلوم (جلد 23) — Page 283
انوار العلوم جلد 23 283 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ تو آپ نے فرمایا اللهُم اَيَّدُهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ۔104 اے خدا ! تو جبرئیل کے ذریعہ سے اس کی مدد کر۔اسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پہلی اُمتوں میں ایسے لوگ پائے جاتے تھے جن پر وحی الہی نازل ہوتی تھی۔اگر میری اُمت میں بھی ایسے لوگ ہوئے تو عمر بن الخطاب ان لوگوں میں سے ایک ہو گا۔105 اس پر حاشیہ میں لکھا ہے کہ محدث سے مراد وہ شخص ہے جو کہ عظیم الشان مرتبہ پر ہو اور صادق الکلام ہو۔اور مجمع البحار میں لکھا ہے کہ اس سے وہ شخص مراد ہے جس کے دل میں خدا تعالیٰ کوئی بات ڈالتا ہے پھر وہ اپنی عقل سے یہ سمجھ لیتا ہے کہ یہ بات خدا کی طرف سے ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کے لئے مخصوص کر دیتا ہے۔اسی طرح یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فرشتے ان سے بولتے ہیں۔حضرت مولانا روم فرماتے ہیں۔ئے نجوم است و نه رمل است و نه خواب وحی حق وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ از پئے روپوش عامه در بیان وحی دل گویند آن را صوفیان 106 وحی الہی نہ نجوم ہے نہ رمل ہے نہ خواب ہے لیکن عوام الناس سے چھپانے کے لئے صوفی اسے وحی دل کہہ دیتے ہیں۔اسی طرح وہ اپنی مثنوی کے دفتر سوم صفحہ 5 پر کہتے ہیں کہ خلق نفس از وسوسه خالی شود مہمان وحی اجلالی شود کامل انسانوں کا نفس خدا تعالیٰ نے وسوسہ سے پاک بنایا اور اُن کے اوپر وحی اجلالی نازل ہوتی رہتی ہے۔تفسیر روح المعانی میں لکھا ہے کہ قرآن کریم میں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ