انوارالعلوم (جلد 23) — Page 282
انوار العلوم جلد 23 اُن کو تحریص کریں گے۔282 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اسی طرح قرآن کریم میں مخلص مسلمانوں کی وفات کے وقت بھی فرشتوں کے ذریعہ وحی نازل ہونے کا ذکر موجود ہے۔چنانچہ فرماتا ہے الَّذِينَ تَتَوَقِّهُمُ الْمَلَئِكَةُ طَيْبِينَ يَقُولُونَ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ۔100 یعنی وہ لوگ جن کی جان فرشتے اس حال میں نکالتے ہیں کہ وہ پاک ہوتے ہیں فرشتے اُن سے کہتے ہیں کہ تم پر سلامتی ہو۔اپنے اعمال نیک کی وجہ سے اب موعودہ جنت میں داخل ہو جاؤ۔اور یہ آیت تو ہم پہلے ہی لکھ چکے ہیں کہ یبَنِي آدَمَ إِما يَأْتِيَنَّكُمْ رُسُلُ مِنْكُمْ يَقْضُونَ عَلَيْكُمْ أَيْتِي فَمَنِ اتَّقَى وَأَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ - 111 اے بنی آدم! (یہ آیت مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہی گئی ہے۔اگر تمہاری طرف ہمارے رسول آئیں اور تم کو ہمارے نشانات و احکام سنائیں تو جو اصلاح سے کام لے گا اور تقویٰ کرے گا اُسے نہ آئندہ کا خوف ہو گا نہ گزشتہ کا غم۔خود حدیثوں میں ایسے واقعات موجود ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی وحی صحابہ پر نازل ہوئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عبد اللہ بن زید ایک صحابی تھے اللہ تعالیٰ نے اُن کو وحی کے ذریعہ سے اذان سکھائی تھی اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی کی وحی پر انحصار کرتے ہوئے مسلمانوں میں اذان کا رواج ڈالا تھا۔بعد میں قرآنی وحی نے بھی اس کی تصدیق کر دی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے بھی خدا تعالیٰ نے یہی اذان سکھائی تھی مگر میں دن تک میں خاموش رہا اس خیال سے کہ ایک اور شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بیان کر چکا ہے۔102 ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ایک فرشتہ نے مجھے آکر اذان سکھائی اور میں اُس وقت پوری طرح سویا ہوا نہیں تھا کچھ کچھ جاگ رہا تھا۔103 پھر نہ صرف یہ کہ بعض صحابہ پر فرشتہ نازل ہوا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دُعا فرمائی کہ خدا تعالیٰ بعض صحابہ پر فرشتے نازل کرے۔چنانچہ ایک دفعہ حضرت حسان بن ثابت جب کفار کے بعض اعتراضات کا جواب دینے کے لئے کھڑے ہوئے