انوارالعلوم (جلد 23) — Page 264
انوار العلوم جلد 23 264 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ (4) پھر یہ کہنا کہ مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی وحی یا نبوت کا تصور برداشت ہی نہیں کر سکتا، اس وجہ سے بھی غلط ہے کہ احمدی جماعت کہیں باہر سے نہیں آئی بلکہ قریباً تمام احمدی یہاں کے مسلمانوں ہی میں سے جماعت میں آئے ہیں۔ان میں علماء بھی ہیں، صوفیاء اور گدی نشین بھی اور مذہبی اور دنیاوی لحاظ سے تعلیم یافتہ بھی۔مشہور علماء جنہوں نے حضرت بانی حضرت مولانا نورالدین صاحب بھیروی، حضرت مولانا سلسلہ احمدیہ کی صداقت کا اقرار کیا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی ، حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی، حضرت مولانا محمد احسن صاحب امروہی، حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب (سابق) مدرس دارالعلوم دیو بند و مظاہر العلوم سہارنپور ) ، حضرت مولانا قاضی سید امیر حسین صاحب سابق مدرس مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور ، حضرت مولانا فضل الدین صاحب کھاریاں، حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب میرٹھی، حضرت مولانا انوار حسین خاں صاحب شاه آباد ضلع ہر دوئی، حضرت مولانا حافظ سید علی میاں صاحب شاہجہانپوری، حضرت مولانا قاضی خلیل الدین احمد صاحب رازی تلہری، حضرت مولانا غلام حسین صاحب لاہوری گمٹی والے، حضرت مولانا حسن علی صاحب واعظ ( جنہوں نے تمام ہندوستان میں دورہ کر کے تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کیا، جن کی تبلیغی سرگرمیاں تمام ہندوستان میں مشہور ہیں۔)، حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی، حضرت مولانا امام الدین صاحب گولیکی ضلع گجرات، حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب فاضل جلالپوری، حضرت مولوی محمد دلپذیر صاحب بھیروی (مشہور پنجابی شاعر ) حضرت میاں ہدایت اللہ صاحب لاہوری ( پنجابی شاعر سه حرفی والے) ، حضرت مولانا عبد القادر صاحب لدھیانوی حنفی حضرت مولانا عبد الماجد صاحب بھاگلپوری، حضرت مولانا عبد الواحد صاحب آف براہمن بڑ یہ بنگال، حضرت مولانا فضل الدین صاحب بھیروی و غیر ہ مشہور و مسلم علماء۔