انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 263

انوار العلوم جلد 23 263 مسئله وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ قتل ہوئے۔بعض انگریز گورنروں اور انگریز افسروں پر قاتلانہ حملے ہوئے لیکن یہ قیقت ہے کہ بر عظیم ہندو پاکستان میں گزشتہ ستر سال میں کبھی احمدی غیر احمدی فسادات نہیں ہوئے اور نہ مذہبی اختلافات کی بناء پر کبھی کوئی احمدی قتل ہوا۔پس اگر احمد یہ عقائد ، احمد یہ لٹریچر اور دوسرے مسلمانوں سے ان کی نمازوں اور جنازوں میں علیحدگی ، باہمی تکفیر اور مسئلہ ختم نبوت مسلمانوں کے لئے فی الحقیقت نا قابل برداشت ہو تا تو کبھی ممکن نہ تھا کہ باہم فسادات نہ ہوتے اور کوئی احمدی کبھی کسی غیر احمدی کے ہاتھ سے مارا نہ جاتا۔(2) پھر قیام پاکستان کے بعد بھی 1947 ء سے لے کر 1953ء تک چھ سال یہ فسادات کیوں رُکے رہے؟ کہا گیا ہے کہ قیام پاکستان کے بعد چونکہ مسئلہ مہاجرین اور مسئلہ کشمیر اور مسئلہ خوراک کی طرف سب کو توجہ تھی اس لئے احمدیوں کے خلاف مسلمانوں کا جوش دبا رہا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو جملہ مسائل ابھی تک حل نہیں ہوئے اور اب بھی اسی طرح مسلمانوں کی توجہ کا مرکز ہیں جس طرح پہلے تھے۔دوسرے یہ کہ باوجود ان مسائل کے قیام پاکستان کے بعد 1953ء کے فسادات سے قبل پاکستان میں چار مقامات پر (نارووال ضلع سیالکوٹ، ضلع لاہور، ضلع سرگودھا اور ضلع میانوالی میں شیعہ سنی فسادات ہوئے لیکن کسی جگہ احمدی غیر احمدی فسادات نہیں ہوئے۔اس سے بھی ثابت ہے کہ ابتداء عام مسلمانوں کے دل میں احمدیوں کے خلاف ہر گز وہ جوش اور اشتعال نہیں تھا جو اُن کے دلوں میں شیعوں کے خلاف تھا۔احمدیوں کے خلاف تو جوش و اشتعال ایک لمبی مدت کی مسلسل کوششوں کے بعد پیدا ہوا ہے۔(3) قیام پاکستان سے پہلے اور مابعد احمدیوں اور غیر احمدیوں کے مابین مسئلہ ختم نبوت اور صداقت حضرت مرزا صاحب اور وفات مسیح کے مسائل پر گزشتہ پچاس ساٹھ سال سے مناظرے ہوتے رہے ہیں۔ہندوستان کے ہر بڑے شہر اور پنجاب کے قصبوں اور قریوں تک میں ایسے مناظرے ہوئے اور ہزاروں ہزار مسلمان نہایت شوق کے ساتھ یہ مناظرے سُنتے رہے لیکن ہمیشہ پر امن رہے کبھی کسی جگہ کوئی فساد نہیں ہوا۔یہ امر واقعہ بذاتِ خود اس خود ساختہ نظریے کو غلط ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ یہ فسادات طبعی تھے۔