انوارالعلوم (جلد 23) — Page 265
انوار العلوم جلد 23 265 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ پیر اور گڈی نشین پیران عظام اور گدی نشینوں میں سے حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف والے (جو سابق ہز ہائنس نواب صاحب بہاولپور کے پیر تھے اور جن کے لاکھوں مرید ریاست بہاولپور اور سندھ میں موجود ہیں)، حضرت پیر صاحب کو ٹھے والے (صوبہ سرحد)، حضرت پیر صاحب العلم (صوبہ سندھ)، حضرت پیر سراج الحق صاحب جمالی نعمانی سرسه شریف (یو پی)، حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی، حضرت حافظ روشن علی صاحب و حضرت پیر برکت علی صاحب نوشاہی (آف رنمل شریف ضلع گجرات)۔مسلم مشاہیر جنہوں نے حضرت بانی سلسلہ مولانا شبلی نعمانی احمدیہ کی تعریف کی یا اُن کی مخالفت نہیں کی مولانا عبد الحلیم شرر، شمس العلماء مولانا سید میرحسن صاحب سیالکوٹی، شمس العلماء مولانا ممتاز علی صاحب، خواجہ حسن نظامی دہلوی، مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولانا عبد الماجد دریا بادی، مولانا غلام مرشد صاحب (خطیب شاہی مسجد لاہور)، حکیم بر ہم مدیر شرق گورکھپور، مولانا عبد اللہ العمادی، چوہدری سر شہاب الدین، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، خلیفہ محمد حسین صاحب وزیر اعظم پٹیالہ، سید ریاض احمد صاحب ریاض خیر آبادی مدیر ریاض الاخبار گورکھپور، س العلماء مولانا الطاف حسین صاحب حالی، مولانا اکبر الہ آبادی۔والی قلات اس سلسلہ میں ہم موجودہ نواب صاحب بلوچستان کے دادا جناب معلی القاب میر خداداد خان صاحب سابق والی قلات کا نام خاص طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے بھی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی تصدیق فرمائی تھی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے اس معز ز عدالت کے روبرو اپنے بیان میں اس امر کا ذکر فرمایا تھا تو اس کے بعد موجودہ نواب صاحب نے اس کی صحت سے انکار کیا اور اخبارات میں بھی تردید شائع کرائی۔حقیقت حال کو واضح کرنے کے لئے ہم جناب میر خدا داد خان صاحب مرحوم سابق والی قلات کا اصل خط