انوارالعلوم (جلد 23) — Page 162
انوار العلوم جلد 23 162 تعلق باللہ حضرت ابن عباس ایک دفعہ کہیں بیٹھے ہوئے تھے کہ اُنہوں نے اِسی طرح کہنا شروع کیا خلیلی نے یوں کہا ہے۔حضرت ابن عباس نے سنا تو انہیں برا معلوم ہوا اور اُنہوں نے ڈانٹا کہ تم یہ کیا کہہ رہے ہو کیا ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہیں تھے اور کیا ہم دیکھا نہیں کرتے تھے کہ تمہارار سول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کتنا تعلق تھا؟ معلوم ہوتا ہے جوش میں حضرت ابو ہریرہ اس طرح کہ لیتے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف خدا اور بندے کے انتہائی تعلق پر ہی خُلۃ کا لفظ بولا جاسکتا ہے۔اگر اس لفظ کو کسی اور مفہوم یا مقام پر استعمال کیا جائے گا تو وہ بہر حال استعارہ کہلائے گا۔پس خُلہ کا لفظ مقامات محبت میں سب سے بلند ہے چونکہ عام لفظ محبت ہے ہم اُسی کو آسانی کے ساتھ استعمال کر لیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ محبت کے مختلف درجے ہیں۔(۱) رغبت (۲)انس (۳) وذ (۴) محبت (۵) خُلة۔اور یہ پانچوں درجے وہ ہیں جن کا قرآن کریم سے ثبوت ملتا ہے۔محبت کے اظہار کے لئے الفاظ تو بعض اور بھی ہیں مگر وہ لمبے فقروں میں استعمال ہوئے ہیں اس لئے میں نے اُن کو چھوڑ دیا ہے اور دو لفظ ایسے ہیں جن کو میں نے لیا ہی نہیں یعنی شوق اور عشق۔ان پانچ الفاظ میں دو تو صرف بندوں کی محبت کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور تین ایسے ہیں جو بندے اور خدا دونوں میں شریک ہیں یعنی بندے کے خدا تعلق پر بھی استعمال ہوتے ہیں اور خدا کے بندے سے تعلق پر بھی استعمال ہوتے یہ جو میں نے کہا تھا کہ عشق کے معنی ہلاکت کے ہیں اور اسی لئے اللہ تعالیٰ کی محبت کے متعلق قرآن کریم یا احادیث میں یہ لفظ استعمال نہیں کیا گیا اس کا حدیثوں سے بھی ثبوت ملتا ہے۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا مَنْ عَشِقَ فَعَفَ ثُمَّ مَاتَ مَاتَ شَھیدا 3 یعنی اگر کسی شخص کو عشق ہو جائے اور پھر وہ اپنا تقویٰ قائم رکھے اور مر جائے تو وہ شہید ہوتا ہے۔اس سے پتہ لگا کہ عشق کا لفظ صرف شہوت یا ایسی مفرط محبت کے لئے استعمال ہوتا ہے جو صحت کو برباد کر