انوارالعلوم (جلد 23) — Page 163
انوار العلوم جلد 23 163 تعلق باللہ دیتی اور دماغ کو ناکارہ بنا دیتی ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی محبت کو عشق کہا جا سکتا ہے تو پھر اس سے روکنے کے کیا معنی تھے۔ایسی ہی روایت ابن عساکر نے بھی ابن عباس سے کی ہے۔پس معلوم ہوا کہ محبت جسمانی جو انتہاء کو پہنچ جائے اور جب صبر بظاہر ناممکن ہو جائے تو اُس کے مفہوم میں عشق کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور چونکہ یہ بُرے معنوں میں استعمال ہونے لگا ہے یعنی شہوت یا ایسی مفرط محبت کے معنوں میں جو دماغ کو خراب کر دیتی ہے اور اسلام ایسے کسی فعل کو پسند نہیں کرتا خواہ خدا تعالیٰ ہی کے متعلق ہو۔اس لئے گو عشق بھی محبت کے معنی رکھتا ہے مگر یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے کسی صحیح حدیث یا قرآن میں نہیں آیا۔اللہ تعالیٰ اور مومنوں کے متعلق قرآن یا حدیث میں صرف (۱) رغبت (۲) انس (۳) وذ (۴) محبت اور (۵) خُلة کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔پہلے دو صرف ایسی محبت کی نسبت استعمال ہوتے ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے ہوتی ہے اور دوسرے تین اُس محبت کے متعلق استعمال ہوئے ہیں جو دونوں طرف سے ممکن ہے اور ہوتی ہے۔رغبت اور انس کے لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال نہیں ہوئے کہ اوّل یہ ادنیٰ درجہ کی محبتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت ادنیٰ نہیں ہو سکتی۔دوسرے اس لئے کہ دونوں میں دوری سے نزدیکی اور وحشت سے قرب کے معنی پائے جاتے ہیں اور یہ باتیں انسان میں تو ہوتی ہیں کہ وہ پہلے دور ہوتا ہے اور پھر نزدیک ہونے کی خواہش کرتا ہے یا پہلے وحشت رکھتا ہے اور پھر قرب کا کوئی موقع مل جائے تو اُسے سکون محسوس ہوتا ہے اور وہ بار بار اس کی خواہش کرتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ ایسا صرف انسان سے ممکن ہے اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان نہیں کیونکہ وہ انسان کی ہر حالت سے ہر وقت واقف ہے اور اُس کی طرف جانے کی خواہش یا اُس سے کسی وقت ملاقات کے نتیجہ میں اُس سے سکون کا حصول اُس کی شان اور درجہ کے منافی ہے۔پس بندے کی محبت ، رغبت اور انس سے ترقی کرنا شروع کرتی ہے اور ڈڈ کے مقام پر خدا تعالیٰ کی محبت میں مدغم ہو جاتی ہے اور پھر دونوں محبتیں مل کر خلة کے مقام پر ختم ہو جاتی ہیں۔فرق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مقام پر بندے سے اونچا ہوتا ہے۔ایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ انسان راغب ہوتا ہے مگر اللہ تعالیٰ وَ دُود۔انسان