انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 161

انوار العلوم جلد 23 161 تعلق باللہ اور غیریت کا سوال ہی باقی نہ رہے۔جب باہر سے حکم لاتی ہے لیکن خُلة باہر سے نہیں بلکہ نیچرل اور طبعی طور پر کام کرتی ہے۔یہ معنی جو مفردات والوں نے کئے ہیں زیادہ اجتھے اور زیادہ صحیح ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے خلیل بنایا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی وفات کی خبر آئی تو آپ نے صحابہ کو جمع کیا اور اُن میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ خدا کا ایک بندہ تھا جسے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اے میرے بندے! اگر تو چاہے تو میں تجھے اپنے پاس بلالوں اور اگر تو دنیا میں اور رہنا چاہے تو میں تیری عمر کو اور لمبا کر دوں۔اُس بندے نے کہا اے میرے خدا! میں دنیا میں نہیں رہنا چاہتا تو مجھے پاس ہی بلالے۔صحابہ نے یہ بات سنی تو انہوں نے سمجھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مثال دی ہے اور وہ دل میں خوش ہوئے کہ آج ہمیں ایک بڑا اچھا نکتہ ملا ہے۔مگر حضرت ابو بکر یہ سنتے ہی رونے لگ گئے اور اتنے روئے اتنے روئے کہ اُن کی ہچکیاں بندھ گئیں۔تب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لوگو! ابو بکر مجھے اتنا پیارا ہے کہ اگر خدا کے سوا میں کسی اور کو خلیل بنا سکتا تو ابو بکر کو بنالیتا۔22 معلوم ہوا کہ اسلام میں کسی انسان سے محبت کرنا تو جائز ہے لیکن خلۃ صرف خد اتعالیٰ کے لئے جائز ہے۔گو استعارہ کے طور پر انسانوں کیلئے بھی کبھی کبھی بول لیتے ہیں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بہت بعد میں اسلام لائے تھے مگر انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سننے کا بہت شوق تھا اور اسی وجہ سے انہوں نے ہزاروں حدیثیں بیان کی ہیں مگر جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے اُن کی درایت ایسی اعلیٰ نہیں تھی وہ ہمیشہ نئے آنے والوں پر جب اپنے فخر کا اظہار کیا کرتے تو کہا کرتے تھے کہ خلیلی نے یہ فرمایا ہے۔خلیلی نے یہ فرمایا ہے اور مراد یہ ہوا کرتی تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ہے۔گویا اپنا تعلق جتانے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بعض دفعہ خلیل کا لفظ استعمال کر لیا کرتے تھے۔