انوارالعلوم (جلد 23) — Page 142
انوار العلوم جلد 23 142 تعلق بالله اور نہ خدان اور نہ اس تعلق کے اظہار کے لئے جو خدا کا اپنے بندے سے ہوتا ہے۔ حالانکہ عشق بڑی شدید محبت کو کہتے ہیں مگر باوجود اس کے کہ نہایت شدید محبت کے لئے عشق کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے پھر بھی خدا تعالیٰ یہ نہیں کہتا کہ تم مجھ سے عشق کرو اور نہ یہ کہتا ہے کہ فلاں بندے کو مجھ سے عشق تھا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عشق کے معنی لغت کی وضع کے لحاظ سے کچھ پسندیدہ معنے نہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صوفیاء نے یہ لفظ استعمال کیا ہے اور میں جو تردید کر رہا ہوں خود میرے شعروں میں بھی کئی جگہ عشق کا لفظ آیا ہے مگر وہ استعمال اُردو شاعری کے لحاظ سے ہے بحیثیت عربی دان ہونے کے نہیں۔ عربی میں اس لفظ کا استعمال خدا تعالیٰ کے لئے پسندیدہ نہیں سمجھا جاتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عشق کے معنوں میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ ایسی محبت ہو جو انسان کو ہلاکت تک پہنچادے اور یہ بات ایسی ہے جو نہ اس انسان کے متعلق کہی جاسکتی ہے جو خدا تعالیٰ سے محبت کر رہا ہو خدا تعالیٰ کے متعلق کہی جاسکتی ہے جو اپنے کسی بندے سے ا بندے سے محبت کر رہا ہو۔ خدا تعالیٰ جو منبع حیات ہے اُس کے لئے اگر کوئی شخص شدید محبت رکھے گا تو اُس کی محبت بڑھے گی اور ترقی کرے گی اور اُسے ایک نئی زندگی عطا ہو گی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ کی محبت اُسے ہلاک کر دے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی اُس محبت پر بھی یہ لفظ استعمال نہیں ہو سکتا جو وہ اپنے بندوں سے رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ تو خود منبع حیات ہے اور جو فنا نہیں ہو سکتا اُس کے متعلق یہ کہنا کہ محبت اُسے ہلاکت تک پہنچادے گی بالکل غلط ہو گا۔ پس چونکہ عشق کے معنوں میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ عشق ایسی محبت کو کہتے ہیں جس سے عقل میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے اور رفتہ رفتہ ایسی محبت کرنے والا ہلاکت تک پہنچ جاتا ہے اور یہ چیزیں خدا تعالیٰ کی محبت میں انسان کے اندر پیدا نہیں ہوتیں اور نہ خدا تعالیٰ کی اُس محبت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں جو وہ اپنے بندوں سے رکھتا ہے۔ اِس لئے نہ قرآن میں اور نہ کسی حدیث صحیح میں بندے اور خدا کی محبت کے لئے عشق کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ میں نے یہ وضاحت اس لئے کی ہے کہ ہمارے ملک میں عشق کا لفظ انتہائی محبت کے لئے استعمال ہوتا ہے لیکن قرآن اور حدیث میں یہ لفظ استعمال نہیں کیا گیا اور اس کی وجہ میں نے بتا