انوارالعلوم (جلد 23) — Page 141
انوار العلوم جلد 23 141 تعلق باللہ اُس کا ذہن خطرہ کی طرف منتقل نہیں ہو تا بلکہ اُسے درمیان کا فاصلہ طے کرنے کے لئے کچھ وقفہ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن جذبات میں ایک تسلسل چلتا ہے جو سوتے جاگتے ہر وقت قائم رہتا ہے۔اس تعلق کے اظہار کے لئے عربی زبان میں مختلف الفاظ پائے جاتے ہیں مثلاً رغبت شوق، انس ، وڈ، محبت، خُلۃ، عشق۔ان کے سوا لبعض اور بھی الفاظ ہیں مگر یہ چند موٹے موٹے الفاظ ہیں جو میں نے چن لئے ہیں۔شوق اور عشق شوق اور عشق کا لفظ قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا، نہ بندے کے خدا سے تعلق کے متعلق استعمال ہو ا ہے اور نہ خدا کے بندے سے تعلق کے متعلق استعمال ہوا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان کے لحاظ سے شوق میں وسعت کا مادہ نہیں پایا جاتا لیکن جو شوق کے معنی ہیں وہ رغبت کے معنوں میں بھی آجاتے ہیں اور پھر رغبت کے لفظ میں عربی زبان کے لحاظ سے وسعت بھی پائی جاتی ہے چونکہ جس شخص سے بھی خدا تعالیٰ کو محبت ہو گی لازمآوہ محبت انسانی محبت سے زیادہ ہوگی اور جس شخص کے دل میں بھی خدا تعالیٰ سے محبت کرنے کا خیال پیدا ہو گا وہ یہی چاہے گا کہ میں سب سے زیادہ خدا تعالیٰ سے محبت کروں۔یہ نہیں کہ وہ کہے گا میں اتنی محبت کروں گا جتنی مجھے مثلاً اپنی بکری سے ہے یا جتنی محبت مجھے اپنے گھوڑے سے ہے اور شوق میں وسعت نہیں پاتی جاتی اس لئے نہ بندے کے اُس تعلق کے لئے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے جو اُس کا خد اتعالیٰ سے ہوتا ہے اور نہ خدا تعالیٰ کے اس تعلق کے لئے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے جو اُس کا اپنے بندے سے ہوتا ہے۔شوق کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہمیں وہ چیز ابھی ملی نہیں جس کی ہمارے دل میں خواہش پائی جاتی ہے اور ظاہر ہے کہ اس مفہوم کے لحاظ سے خدا تعالیٰ کے لئے یہ لفظ استعمال نہیں ہو سکتا۔ورنہ نَعُوذُ بِاللہ یہ کہنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ کو بھی بعض چیزوں کی خواہش ہوتی ہے مگر وہ اُسے ملتی نہیں۔اسی طرح عشق کا لفظ بھی نہ قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے اور نہ جہاں تک مجھے علم ہے حدیثوں میں استعمال ہوا ہے۔نہ اُس تعلق کے اظہار کے لئے جو بندے کا خدا سے ہو تا ہے