انوارالعلوم (جلد 23) — Page 143
انوار العلوم جلد 23 143 تعلق باللہ دی ہے کہ عربی لغت کے لحاظ سے عشق ایسی محبت کو کہتے ہیں جو ہلاکت اور بربادی تک پہنچا دے۔پس گو عام محاورہ کے لحاظ سے ہم اپنی زبان میں کبھی کہہ بھی دیتے ہیں فلاں شخص خدا تعالیٰ سے عشق رکھتا ہے لیکن عربی زبان کے لحاظ سے اس لفظ کا استعمال صحیح نہیں ہوتا کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ نہ کوئی انسان عقل صحیح سے کام لیتے ہوئے خدا تعالیٰ سے عشق کر سکتا ہے اور نہ کوئی انسان ایسا ہو سکتا ہے جو خد اتعالیٰ سے عشق کرے کیونکہ خدا تعالیٰ کی محبت انسان کو ہلاکت اور بربادی سے بچاتی ہے ہلاکت اور بربادی تک لے جاتی نہیں۔اب باقی رہ گئے رغبت ، انس، ڈڈ، محبت اور خُلۃ کے الفاظ۔یہ الفاظ کسی جگہ پر بندے کے خدا سے تعلق کی نسبت اور کسی جگہ پر خدا تعالیٰ کے بندے سے تعلق کی نسبت قرآن و حدیث میں استعمال کئے گئے ہیں۔آگے چل کر میں بیان کروں گا کہ اِن مختلف الفاظ میں کیا حکمت ہے اور ہر لفظ محبت کے کس رنگ یا کس درجہ کو ظاہر کرتا ہے۔غبت سب سے پہلے میں یہ بتاتا ہوں کہ رغبت کے عربی زبان میں کیا معنی ہیں رغبة کے معنی ہوتے ہیں اَرَادَةَ بِالْحِرْصِ عَلَيْهِ وَاَحَبَّه 23 اُس نے ارادہ کیا حرص کے ساتھ اور محبت کے ساتھ اور ایسی محبت کے ساتھ جس میں وسعت پائی جاتی ہے۔گویا جب ہم کسی کے متعلق یہ کہیں کہ وہ کسی سے رغبت رکھتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ اُس سے محبت رکھتا ہے۔اُس کا دل چاہتا ہے کہ اُس سے ملے۔اُس کی چاہت اُس کے دل میں پائی جاتی ہے اور چاہت بھی معمولی نہیں بلکہ بڑی وسیع ہے۔اب اُردو کے لحاظ سے تو لوگ کہیں گے کہ خوب مضمون ہے جو اس چھوٹے سے لفظ کے اندر آگیا۔لیکن عربی زبان کے لحاظ سے محبت کا یہ سب سے چھوٹا مضمون ہے جو اس لفظ کے ذریعہ ادا کیا جاتا ہے۔غرض رغبت کے معنی ہیں ملاقات کا ارادہ کرنا اور ارادہ بھی کسی اور غرض کے لئے نہ ہو بلکہ محض پیار کے لئے ہو اور وہ ارادہ بھی معمولی نہ ہو بلکہ بہت تیز ہو۔پھر رَغِبَ اِلَيْهِ کے یہ بھی معنی ہوتے ہیں کہ ابتهل 24 یعنی عجز کرنا اور بہت ہی