انوارالعلوم (جلد 23) — Page 139
انوار العلوم جلد 23 139 تعلق بالله نیک بندے کا محتاج ہوتا ہے۔ وہ انسان اونٹنی بنتا ہے اور خدا اس پر سوار ہوتا ہے اور جس طرح اُسی سواری سے سفر اچھا ہوتا ہے جو سیدھی ہوئی ہو اسی طرح انسان بھی وہی کام کا ہوتا ہے جو اللہ تعالی سے سدھ جائے اور اُس کے اشاروں کو سمجھنے لگے۔ گویا خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والے کی مثال ایک سواری کی سی ہے جو خدا تعالیٰ کے کام آتی ہے۔ اگر وہ دنیا سے خدا تعالیٰ روشناس بھی نہ ہو۔ تمثیلی زبان میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ نہ ہو تو اس خدا تعالیٰ نے اپنے آپ کو اس بات کا محتاج قرار دیا ہے کہ انسان اُس کی سواری بنے تا کہ دنیا میں اُس کا ظہور ہو اور اُس کی صفات اس عالم میں ظاہر ہوں۔ غرض قرآن کریم و حدیث سے ثابت ہے کہ انسان کی پیدائش تعلق باللہ کے لئے ہے اور یہ کہ تعلق باللہ دونوں طرح کا ہوتا ہے۔ بندے کا خدا سے اور خدا کا بندے سے۔ جیسا کہ حدیث بالا میں توبہ پر خدا کی خوشی کا ذکر ہے اور انسان کو خداتعالیٰ کی سواری قرار دیا گیا ہے۔ نیز اس حدیث میں بھی اس کا ذکر آتا ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انسان نوافل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے قرب میں بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ خدا اُس کے کان ہو جاتا ہے جن سے وہ سنتا ہے۔ اُس کی آنکھیں ہو جاتا ہے جن سے وہ دیکھتا ہے۔ اس کے ہاتھ ہو جاتا ہے جن سے وہ پکڑتا ہے اور اُس کے پاؤں ہو جاتا ہے جن سے وہ چلتا ہے 22 اور یہ مقام جس کا ذکر کیا گیا ہے یعنی خدا تعالیٰ سے انسان کا ایسا گہرا تعلق قائم ہو جانا کہ انسان اُس کی سواری بن جائے اور خدا تعالیٰ کا اپنے بندے کو اس قدر قریب کرنا کہ اُس کے کان اور اُس کی آنکھیں اور اُس کے ہاتھ اور اُس کے پاؤں اُس کے نہ رہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے بن جائیں۔ یہ خالی اطاعت و امتثال اور انعام نہیں ہو سکتے کیونکہ اِن امور کا تعلق فکر سے ہے جذبات سے نہیں۔ اطاعت ایک فلسفیانہ چیز ہے اور خدا تعالیٰ کا ملنا ایک حِسّیاتی چیز ہے۔ اطاعت اور امتثال محض دماغی کیفیات سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں اور خدا تعالیٰ کا اس قدر قریب ہو جانا کہ انسان اُس کی سواری بن جائے اور خدا اُس کے ہاتھ پاؤں بن جائے یہ دل کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں اور ظاہر ہے کہ جس و جذبات ایسی چیزیں ہیں جن کا تعلق دائمی ہوتا ہے اور