انوارالعلوم (جلد 23) — Page 140
انوار العلوم جلد 23 140 تعلق باللہ دماغ ایسی چیز ہے جس کا تعلق عارضی ہو تا ہے تم جاگ رہے ہو تو مکھی جب تمہارے جسم پر بیٹھنے کے لئے آتی ہے تو تم ہاتھ مارتے ہو تا کہ مکھی تم سے دور ہو جائے لیکن سوتے ہوئے اگر مکھی تمہارے قریب آتی ہے تو تمہیں رعشہ کا مرض ہو تو اور بات ہے ورنہ یہ نہیں ہو تا کہ سونے کی حالت میں اُس کے آنے سے پہلے ہی اُس کو ہٹانے کی کوشش کرو۔یا دشمن آتا ہے اور تم پر حملہ کرتا ہے اور پھر تم سو جاتے ہو تو یہ کہ تم سوتے سوتے یہ سوچتے رہو کہ اگر پھر دشمن تم پر حملہ کر دے تو تم اس کا کس طرح مقابلہ کرو گے۔بلکہ اگر تمہارے سوتے ہوئے گھر میں کوئی دشمن آجائے اور تمہاری بیوی یا بیٹا اُس کا مقابلہ کر کے اُسے بھگا دیں تو تم بعد میں شکوہ کرتے ہو اپنے بیٹے سے یا شکوہ کرتے ہو اپنی بیوی سے کہ تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں ورنہ مجھے بھی پتہ لگ جاتا اور میں بھی تمہاری مدد کرتا۔تو عقلی تعلق صرف جاگتے ہوئے چلتا ہے اور سونے کی حالت میں وہ اتنا کمزور ہو جاتا ہے کہ صرف تحت الشعور ہی میں اُس تعلق کا احساس رہتا ہے اور وہ بھی بہت محدود رنگ میں لیکن جذباتی اور قلبی تعلق ایسا نمایاں ہوتا ہے کہ جاگتے ہوئے بھی اُس کا خیال رہتا ہے اور سوتے ہوئے بھی اُسی کا خیال رہتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو ماں سوتے سوتے اپنے بچہ کو گلے سے چمٹائے رہتی ہے اور سونے کی حالت میں ہی کبھی وہ اسے پیار کرتی ہے کبھی پچکارتی ہے اور کبھی اُسے سینہ سے لگاتی ہے۔اگر اُسی حالت میں کوئی چور اُس کا مال اُٹھا کر لے جائے تو اُسے خبر بھی نہیں ہوتی کیونکہ مال کا تعلق فکر سے ہے جذبات سے نہیں۔لیکن بچہ کی محبت سونے کی حالت میں بھی قائم رہتی ہے۔ادھر ماں بچہ کو پیار کر رہی ہوتی ہے اور بچہ اپنی ماں کی چھاتیاں منہ میں ڈالے چوس رہا ہوتا ہے اور وہ دونوں سو رہے ہوتے ہیں تو جذبات ہر وقت قائم رہتے ہیں۔جب یہ پیدا ہو جائیں تو ان کے لئے جاگنا اور سونا برابر ہوتا ہے لیکن دماغی کیفیتیں جاگتے وقت نمایاں ہوتی ہیں اور سوتے وقت غائب ہو جاتی ہیں اور جب جگاؤ تو ان کیفیات کو دماغ میں مستحضر کرنے کے لئے ایک فاصلہ کی ضرورت ہوتی ہے۔مثلاًماں کی آنکھ کھلے تو بچہ کی محبت آنکھ کھلنے کے ساتھ ہی آجائے گی لیکن گھر میں سانپ نکل آئے اور کسی سوئے ہوئے آدمی کو جگایا جائے تو آنکھ کھلنے پر فوری طور پر