انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 138

انوار العلوم جلد 23 138 تعلق باللہ پس اسلام تعلق باللہ کو نہ صرف ممکن بلکہ انسان کی اغراض پیدائش میں سے قرار دیتا ہے۔احادیث میں آتا ہے۔عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّهِ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ أَحَدِكُمْ مِنْ أَحَدِكُمْ بِضَالَّتِهِ إِذَا وَجَدَهَا 20 یعنی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی کہ خدا اپنے بندہ کی تو بہ پر اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی سواری سفر میں گم ہو جائے اور پھر وہ اُسے مل جائے۔عرب جیسے ملک میں سفر کی حالت میں اگر کسی شخص کی سواری گم ہو جائے تو تم سمجھ سکتے ہو کہ یہ کتنی خطرناک بات ہے۔میلوں میل پر ایسے شخص کو نہ پانی مل سکتا ہے نہ کھانے کیلئے کوئی چیز مل سکتی ہے اور نہ کوئی اور ایسا شخص مل سکتا ہے جو اُسے منزلِ مقصود پر پہنچنے میں مدد دے۔ایسی حالت میں اگر اُس کی گمشدہ سواری اُسے مل جائے تو جو خوشی ایسے شخص کو ہو سکتی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس سے بھی زیادہ خوشی اللہ تعالیٰ کو اُس وقت ہوتی ہے جب اُس کا کوئی بندہ اُس کے حضور توبہ کرتا ہے۔دیکھو اس میں بھی نہ صرف اللہ تعالیٰ کی محبت کا اظہار کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کو خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے بلکہ ایک زائد بات بھی اس میں بتائی گئی ہے اور وہ زائد بات یہ ہے کہ صالة 21 گمشدہ سواری کو کہتے ہیں۔اور بندے کے توبہ کی مثال گمشدہ سواری سے دینا اپنے اندر یہ حکمت رکھتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی سواری ہے جس سے وہ سفر کرتا ہے یعنی اپنی صفات کو دنیا میں جاری کرتا ہے۔اگر یہ حکمت مد نظر نہ ہوتی تو گمشدہ سواری کی مثال دینے کی بجائے یہ بھی کہا جا سکتا تھا کہ خدا تعالیٰ کو اس سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی کسی شخص کو اپنی کھوئی ہوئی دولت کے ملنے سے خوشی ہوتی ہے۔مثال کے لئے سواری کو مخصوص کرنا بتاتا ہے کہ انسان بھی اللہ تعالیٰ کی ایک سواری ہے۔سواری کے معنی اُس چیز کے ہوتے ہیں جس کے ذریعہ سے اُس کا سوار اپنی منزل مقصود تک پہنچتا ہے۔پس جس طرح گدھے اور گھوڑے اور اونٹ کا انسان محتاج ہے اور وہ اُن پر سواری کرتا ہے تاکہ وہ جلد منزلِ مقصود پر پہنچ سکے۔اسی طرح خدا بھی اپنے ظہور کے لئے کسی