انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 125

انوار العلوم جلد 23 125 تعلق باللہ تووه کرنے تھے مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس دفعہ کمپنی کو زیادہ ثواب اور اجر ملے گا۔یوں پہلے بھی بھیجتے تھے مگر معلوم ہوتا ہے اس دفعہ انہوں نے زیادہ اخلاص سے بھیجے ہیں کیونکہ وہ ایسے موقع پر کام آئے جبکہ سلسلہ کو ان کی سخت ضرورت تھی"۔(الفضل 7 دسمبر 1960ء) اسکے بعد اصل موضوع تعلق باللہ پر تقریر کا آغاز کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:- "میری آج کی تقریر کا موضوع تعلق باللہ ہے میں نے پچھلے دنوں اپنے ایک خطبہ میں بھی بیان کیا تھا کہ بہت سے لوگ میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دعا کریں بیٹا ہو جائے۔کوئی کہتا ہے دعا کریں میری بیوی اچھی ہو جائے۔کوئی کہتا ہے دعا کریں مجھے کوئی بیوی مل جائے۔کوئی کہتا ہے دعا کریں میرا اپنی بیوی سے ایک جھگڑا چل رہا ہے اُس میں صلح کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔کوئی کہتا ہے دعا کریں مجھے نوکری مل جائے۔کوئی کہتا ہے دعا کریں میں امتحان میں کامیاب ہو جاؤں۔کوئی کہتا ہے دعا کریں مجھے اپنی ملازمت میں ترقی مل جائے۔کوئی کہتا ہے دعا کریں میری فلاں جگہ سے تبدیلی ہو جائے۔اسی طرح عور تیں میرے پاس آتی ہیں تو کوئی کہتی ہے میرے ہاں صرف لڑکیاں ہیں دعا کریں کہ کوئی لڑکا ہو جائے۔کوئی کہتی ہے میرے خاوند کا سلوک میرے ساتھ اچھا نہیں دعا کریں کہ اُس کا سلوک اچھا ہو جائے۔کوئی کہتی ہے میرے خاوند کا سلوک تو اچھا ہے لیکن دعا کریں کہ وہ اس سے بھی زیادہ اچھا سلوک کرے۔کوئی کہتی ہے میرے ماں باپ اور خاوند کے درمیان کوئی جھگڑا ہے دعا کریں کہ اُن کی آپس میں صلح ہو جائے۔غرض جتنی ضرورتیں بیان کی جاتی ہیں وہ ساری کی ساری ایسی ہوتی ہیں جو اس دنیا کی زندگی کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں حالانکہ سب سے مقدم دعا اگر کوئی ہو سکتی ہے تو یہی ہے کہ ہمارا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق پید اہو جائے اور سب سے مقدم سوال اگر کوئی شخص کر سکتا ہے تو یہی ہے کہ میری اس بارہ میں راہنمائی کی جائے کہ مجھے تعلق باللہ کس طرح حاصل ہو سکتا ہے کیونکہ ہماری زندگی کا سب سے بڑا مقصد یہی ہے۔اگر ہمارا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق پیدا ہو جائے تو باقی سب چیزیں اسی میں آجاتی ہیں جسے