انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 126

انوار العلوم جلد 23 126 تعلق باللہ کہتے ہیں کہ "ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں"۔تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ کوئی بزرگ تھے جن کے ہمسایہ میں کوئی امیر شخص رہتا تھا جو رات دن ناچ گانے کی مجالس گرم رکھتا تھا اور ہر وقت شور و غوغا ہو تا رہتا تھا چونکہ اس طرح اُن کی عبادت میں خلل واقع ہوتا تھا ایک دن اُنہوں نے اُسے سمجھایا اور کہا کہ تم رات کو باجے بجاتے اور اُونچا اونچا گاتے ہو اس طرح میری عبادت میں خلل آتا ہے مناسب یہ ہے کہ تم اس قسم کی مجلسوں کو بند کر دو۔وہ امیر آدمی بادشاہ کا مصاحب تھا اُسے یہ بات بری لگی اور اُس نے بادشاہ کے پاس شکایت کر دی کہ اِس طرح بعض لوگ ہمارے گانے بجانے میں مزاحمت کرتے ہیں۔بادشاہ نے فوج کا ایک دستہ اُس کے مکان پر بھجوا دیا۔جب شاہی فوج آگئی تو اُس نے اُس بزرگ کو کہلا بھجوایا کہ میری حفاظت کے لئے فوج آگئی ہے اگر طاقت ہے تو مقابلہ کر لو۔اُس بزرگ نے جواب دیا کہ ان سامانوں سے تو مقابلہ کی مجھ میں طاقت نہیں لیکن لڑائی ہم نے بھی نہیں چھوڑنی۔اگر ہم تیروں سے تمہارا مقابلہ کریں تو نہ معلوم ہمارا تیر نشانہ پر پڑے یانہ پڑے اس لئے ظاہری تیر اور تلوار کی بجائے ہم رات کے تیروں سے تمہارا مقابلہ کریں گے۔جب یہ پیغام اُسے پہنچا تو معلوم ہوتا ہے اُس کے اندر تھوڑی بہت نیکی تھی پہلے تو وہ خاموش رہا لیکن کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اُس کی چیخ نکل گئی اور اُس نے کہا مجھے معاف کیا جائے آج سے باجا گا ناسب بند ہو جائے گا کیونکہ رات کے تیروں کے مقابلہ کی نہ مجھ میں طاقت ہے اور نہ میرے بادشاہ میں طاقت ہے۔تو حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا ملنا اور اُس سے انسان کا تعلق پیدا ہو جانا یہ سب سے اہم اور ضروری چیز ہے اور اگر خدامل سکتا ہے تو پھر اس میں کوئی شبہ ہی نہیں رہتا کہ ہمارا سب سے بڑا فرض یہی رہ جاتا ہے کہ اُس کے ساتھ تعلق پیدا کریں اور اس طرح اپنی زندگی کے مقصد کو حاصل کر اس مضمون کو سمجھنے کے لئے سب سے پہلا سوال انسان کے دل میں یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خدا ہے یا نہیں؟ اور پھر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خدا مل سکتا ہے یا