انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 124

انوار العلوم جلد 23 124 تعلق باللہ دو تین اور عورتوں نے بھی یہی بیان کیا کہ ایک جگہ نہیں بلکہ دو تین جگہ باہر سے آگ آتی ہوئی دیکھی گئی ہے۔اس کے بعد صبح لجنہ نے تحقیقات کی۔لجنہ کی تحقیقات بھی قریباً اسی طرح ہے جس طرح یہاں ناظم جلسہ کی تحقیق تھی۔وہ بھی کہتی ہیں کہ عورتوں کی گواہی سے یہ بات ثابت ہے کہ انہوں نے خود آگ لگتے دیکھی جو اوپر سے نیچے کی طرف آئی۔پس امور عامہ کی رپورٹ میرے نزدیک درست نہیں۔انہوں نے صرف اپنی بدنامی سے ڈر کر کہ ان کے محکمہ پر الزام آئے گا اس طرح کی رپورٹ کر دی ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ آگ باہر سے لگی ہے۔بلکہ اب تو مجھے یہ بھی شبہ پیدا ہو گیا ہے کہ مردوں والی آگ بھی کسی نے دانستہ نہ لگائی ہو۔بالکل ممکن ہے کہ کوئی دوست بن کر آگیا ہو اور اس نے لیمپ کی بتی اس طرح اونچی کر دی ہو کہ گھانس پھونس کو آگ لگ گئی ہو۔یہ پرانا دستور ہے جو الہی جماعتوں کے مخالف ہمیشہ اختیار کیا کرتے ہیں لیکن ان باتوں کو دیکھ کر مؤمن کا ایمان اور بھی بڑھ جایا کرتا ہے۔مؤمن کی مثال در حقیقت ربڑ کے گیند کی سی ہوتی ہے کہ اسے جتنا دباؤ اتنا ہی اچھلتا ہے۔پس مؤمنوں کے ارادوں کو پست کرنے کی بجائے یہ چیزیں اُن کے ایمانوں کو اور بھی بڑھانے والی ہیں اور انہیں کہنا چاہئے کہ اچھا اگلی دفعہ ہم اور زیادہ آئیں گے۔آخر جب مشرقی پنجاب سے لوگ آئے تو ان کا کتنا نقصان ہوا تھا۔یہاں زیورات والی عور تیں تو صرف پانچ سات ہوں گی باقی اکثر غرباء تھیں لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے سامان پیدا کرتا ہے۔ناظم صاحب جلسہ میرے پاس آئے کہ عورتوں کے لئے بستروں کا کیا انتظام کریں۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ پرسوں ہی ایشین افریقن کمپنی جس میں سلسلہ کے بھی حصے ہیں اور میرے اور میری اولاد کے بھی حصّے ہیں۔کبھی کبھی خدا تعالیٰ کے نام پر کچھ حصہ نکالا کرتی ہے۔تھوڑے ہی دن ہوئے مجھے اُن کی چٹھی آئی کہ ہم پچاس اطالین کمبل غرباء کے لئے بھجوا رہے ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ وہ ایسے موقع پر پہنچے کہ ابھی کمبلوں کا بنڈل بند کا بند ہی پڑا تھا۔جس وقت ناظم صاحب جلسہ میرے پاس آئے تو میں نے کہا وہ بنڈل ان کے حوالے کر دو۔یوں بھی وہ ہم نے غریبوں اور حاجتمندوں میں ہی