انوارالعلوم (جلد 23) — Page 120
انوار العلوم جلد 23 120 تعلق باللہ خدا تعالیٰ تو یہ چاہتا ہے کہ ہم دُنیا کے کونے کونے میں مدینے قائم کر دیں، خدا تعالیٰ تو یہ چاہتا ہے کہ ہم دنیا کے کونے کونے میں قادیان قائم کر دیں اور تم سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے پاس جتنی برکتیں تھیں وہ اس نے صرف ایک مقام پر ہی نازل کر دی ہیں۔حالانکہ وہ خود کہتا ہے کہ آگے بڑھو اور میری برکتوں سے حصہ لو۔روکیں تم نے خود کھڑی کر لی ہیں کہ تم کہتے ہو ہم مقام ابراہیم تک نہیں پہنچ سکتے۔ہم ان برکتوں کے وارث نہیں ہو سکتے جن برکتوں سے پہلے لوگوں نے حصہ پایا۔پس اگر تم خود ہی ان برکتوں کو نہ لو تو تمہاری مرضی۔تم خود پیچھے ہٹتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ نہیں ہو سکتا اور وہ نہیں ہو سکتا۔میں نے ایک دفعہ تقریر میں کہہ دیا کہ ہر مؤمن کو ایک چھوٹا محمد بننے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس پر مخالفین نے شور مچادیا کہ ہتک ہو گئی، ہتک ہو گئی۔حالانکہ جب کسی کی اقتداء کرنے کے لئے کہا جائے گا تو ہمیشہ کسی نیک اور پاک آدمی کا نام ہی لیا جائے گا۔شیطان کا نام تو نہیں لیا جائے گا۔پس سوال یہ ہے کہ آخر ہم کیا کہیں ؟ اگر یہ کہیں کہ ابلیس بنو تب مصیبت ہے اور اگر کہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مثیل بنوتب مصیبت ہے۔یہ تو ویسی ہی مثال ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی امیر سفر کے لئے نکلا تو اس نے اپنے ساتھ ایک میراثی لے لیا۔ایک جگہ پہنچے تو بارش آگئی اور چھت ٹپکنے لگ گئی۔میراثی نے کہیں سے چار پائی کی، چوہدری صاحب کو اس پر بٹھایا اور آپ سرک کر اس کی پائنتی پر بیٹھ گیا۔چوہدری صاحب نے اس کو دو چار تھپڑ لگائے اور کہا کم بخت تو ہمارا مقابلہ کرتا ہے اور ہمارے ساتھ ایک چارپائی پر بیٹھتا ہے۔آگے چلے تو بیٹھنے کے لئے چار پائی بھی نہ ملی وہ کہیں سے ایک نسی لایا اور اس نے زمین کھودنی شروع کر دی۔کسی نے اس سے پوچھا کہ یہ کیا کر رہے ہو ؟ اُس نے کہا بات یہ ہے کہ چوہدری صاحب کے برابر تو میں بیٹھ نہیں سکتا، اب یہ زمین پر بیٹھے ہیں تو میرے لئے یہی صورت رہ گئی ہے کہ میں زمین کھود کر ان سے بھی نیچے بیٹھوں۔یہی حال ان لوگوں کا ہے۔شیطان کہو تب غصہ آتا ہے، محمد رسول اللہ کہو تب غصہ آتا ہے۔حالانکہ انسان یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مثیل بنے گا یا شیطان کا۔پس انسان حیران ہوتا ہے کہ وہ کہے کیا۔غرض اللہ تعالیٰ تو کہتا ہے کہ تم سارے