انوارالعلوم (جلد 23) — Page 121
انوار العلوم جلد 23 121 تعلق باللہ نبیوں کی برکتیں لو لیکن انسان آپ کمزوری دکھاتا ہے اور کہتا ہے یہ نہیں ہو سکتا، وہ نہیں ہو سکتا۔پس میں یہ تو نہیں کہتا کہ ان کی نعش قادیان نہیں جائے گی، جائے گی اور ضرور جائے گی مگر جو برکتیں یہاں نازل ہو رہی ہیں وہ نازل ہوتی چلی جائیں گی۔دیکھو صحابہ اس نکتہ کو سمجھتے تھے چنانچہ نماز اور دُعا تو الگ رہی وہ اس مقام سے بھی برکت ڈھونڈتے تھے جہاں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پیشاب کیا ہو۔حضرت عبد اللہ بن عمر جب بھی حج کے لئے جاتے تو ایک مقام پر وہ خاص طور پر تھوڑی دیر کے لئے قافلہ کو ٹھہراتے اور پیشاب کے لئے بیٹھ جاتے۔اُنہوں نے دو تین حج کئے تھے۔ایک صحابی کہتے ہیں میں نے ایک دفعہ دیکھا تو جہاں وہ پیشاب کے لئے بیٹھے تھے وہ جگہ بالکل خشک تھی۔میں نے ان سے کہا کہ آپ نے ہمارا اتنا حرج کیا۔اگر آپ کو پیشاب آیا نہیں تھا تو آپ نے قافلہ کو ٹھہرایا کیوں، آپ یہاں بیٹھے کس لئے ؟ وہ کہنے لگے یہ بات نہیں اصل بات یہ ہے کہ جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو میں نے دیکھا کہ اس مقام پر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا تھا۔پس میں جب بھی یہاں سے گزرتا ہوں میں کہتا ہوں کہ موقع جانے نہ پائے اور خواہ مجھے پیشاب آیا ہو یا نہ آیا ہو میں یہاں تھوڑی دیر کے لئے برکت حاصل کرنے کے لئے بیٹھ جاتا ہوں۔2 تو صحابہ یہ سمجھتے تھے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر کام میں نقل ان کے لئے برکت کا موجب ہے اور در حقیقت یہ بات ہے بھی درست۔جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، جہاں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور جہاں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کام کئے وہاں برکتیں ہی برکتیں ہیں۔دیکھو، آپ لوگ ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام پیش کیا کرتے ہیں کہ : " بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے " 3 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جسم سے آپ کے کپڑے لگے اور وہ بابرکت ہو گئے۔پھر اگر کسی زمین پر کوئی مقدس انسان رہے تو وہ کیوں بابرکت نہیں ہو گی۔حقیقت یہ ہے کہ روحانی دنیا میں اس کی اتنی مثالیں موجود ہیں کہ یہ سوال ہر شخص کو