انوارالعلوم (جلد 23) — Page 119
انوار العلوم جلد 23 119 تعلق باللہ کہ اگر وہاں برکتیں نازل کرے گا تو یہاں نہیں کرے گا۔وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ ا خدا تعالیٰ کے فضل تو اس قدر ہیں کہ اگر زمین کا چپہ چپہ بھی بہشتی مقبرہ بن جائے تو پھر بھی وہ فضل بچا ہی رہے گا۔ہمیں تو یقین ہے کہ آپ کی نعش قادیان جائے گی۔مگر وہ صرف اپنی برکتیں لے جائے گی اس مقام پر اسی طرح اس کی برکتیں نازل ہوتی رہیں گی جس طرح اب نازل ہو رہی ہیں۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں پیدا ہوئے مگر مدفون مدینہ میں ہیں۔پس جو خدا مکہ سے اپنی برکتوں کو بچا کر مدینہ لے گیا اور اس نے مدینہ کو بھی بابرکت کر دیا اسی خدا نے اس زمانہ میں قادیان کو بھی بابرکت کیا اور پھر قادیان کی برکتوں سے بچا کر اس نے ربوہ کو بھی بابر کت کر دیا۔اس قسم کے خیالات محض لوگوں کے اپنے اندازوں پر مبنی ہوتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح ہم غریب ہیں اسی طرح نعوذ باللہ خدا بھی غریب ہے۔لطیفہ مشہور ہے کہ مسلمانوں کی بادشاہی کے زمانہ میں ایک نائی جو امراء کی حجامتیں بنایا کرتا تھا اسے ایک دفعہ کسی امیر نے دوسو اشرفی انعام دے دی۔چونکہ دو سو اشرفی کی تھیلی اسے یکدم ملی اس لئے وہ ہر وقت اسے اچھالتا رہتا اور جب بھی کوئی شخص ملتا اور پوچھتا کہ سنائیے شہر کا کیا حال ہے تو وہ کہتا کہ بغداد کا کوئی ہی بد قسمت ہو گا جس کے پاس دو سو اشرفی بھی نہ ہو۔چونکہ وہ امراء کا نائی تھا اس لئے وہ تھیلی کے متعلق زیادہ احتیاط نہیں کرتا تھا۔ایک دفعہ کسی امیر کو مذاق سوجھا اور اس نے چپکے سے وہ تھیلی کھسکالی۔اب وہ کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ ڈرتا تھا کہ امراء اُسے کہیں گے کہ تو ہم پر چوری کا الزام لگاتا ہے مگر دوسری طرف اسے صدمہ بھی سخت تھا۔آخر غم کے مارے وہ بیمار ہو گیا۔جب لوگ اسے پوچھنے جاتے اور دریافت کرتے کہ بتلائیے اب شہر کا کیا حال ہے تو وہ کہتا کہ شہر کا کیا پوچھتے ہو وہ تو بھٹو کا مر رہا ہے۔آخر اس امیر نے تھیلی نکال کر دے دی اور کہا شہر کو بھوکا نہ مارو اور اپنی تھیلی لے لو۔پس اپنی کمزوریوں پر خدا تعالیٰ کی رحمتوں کا کیوں اندازہ لگاتے ہو۔خدا تعالیٰ تو یہ چاہتا ہے کہ جگہ جگہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مثیل اور خادم پیدا ہوں۔خدا تعالیٰ تو یہ چاہتا ہے کہ ہم جگہ جگہ مقام ابراہیم پیدا کر دیں،