انوارالعلوم (جلد 23) — Page 326
انوار العلوم جلد 23 326 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ سچائی اور مذہب کا ذریعہ نہیں قرار دیا جاتا۔اور یہ تکرار یہ کہنے والا مذ ہبی آدمی کبھی نہیں کہلا سکتا، سیاسی آدمی کہلا سکتا ہے۔ایک تیسرا حوالہ بھی بتاتا ہے کہ یہ محض سیاسی جوش تھا۔یہ بھی سیّد عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کا حوالہ ہے۔اس کے لئے ہم ایک اشتہار کی مندرجہ ذیل عبارت پیش کرتے ہیں:- ”میرا مجلس احرار سے کوئی تعلق نہیں۔میں مجلس احرار کا دو آنہ کا ممبر بھی نہیں ہوں۔میں پکا مسلم لیگی ہوں۔مسلم لیگ اور پاکستان کا سچا وفادار ہوں۔میں ممتاز صاحب دولتانہ کو اس لئے اپنا لیڈر جانتا ہوں کہ وہ ایک تو صوبہ مسلم لیگ کے صدر ہیں اور دوسرے وہ صوبہ پنجاب کی حکومت کے وزیر اعلیٰ ہیں۔اگر دولتانہ صاحب کہہ دیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت پر ایمان لے آؤ تو میں اُس پر ایمان لے آؤں گا اور مرزا بشیر الدین محمود احمد کو خلیفۃ المسیح مان لوں 203" گا سوال نمبر 3 متعلق دعویٰ مسیحیت و متعلقہ امور تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں۔حضرت مرزا صاحب بانی سلسلہ احمدیہ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور اسی سے لازم آتا ہے کہ مسیح ناصری کو وفات یافتہ سمجھا جائے لیکن اس دعویٰ سے مسلمانوں کی کوئی دل شکنی نہیں ہوتی۔نہ عیسائیوں کی کوئی دل شکنی ہوتی ہے۔عیسائی تو مسیح ناصری کو خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں لیکن پھر بھی اُن کی اس دعوی سے دل شکنی نہیں ہوتی۔بہت سے عیسائی ممالک میں احمدی مشنری ہیں اور وہ احمدیت کی تبلیغ کرتے ہیں۔یہ نہیں کہ ان ممالک کے لوگ عیسائیت کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔وہ لوگ کروڑوں کروڑ روپیہ مسلمانوں میں تبلیغ کے لئے چندہ دیتے ہیں۔جس کے معنی یہ ہیں کہ عیسائیت کی محبت اور اُس پر ایمان اُن کے دلوں میں