انوارالعلوم (جلد 23)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 631

انوارالعلوم (جلد 23) — Page 327

انوار العلوم جلد 23 327 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ موجو د ہے مگر پھر بھی وہ حضرت مرزا صاحب کے دعویٰ مسیح موعود سے نہیں چڑتے اور انہیں غصہ نہیں آتا۔جس سے ظاہر ہے کہ وہ انسانی اخلاق کی قیمت کو سمجھتے ہیں۔ہمارے علماء انسانی اخلاق اور حریت ضمیر کی قیمت نہیں سمجھتے۔وہ اپنے تنگ مذاہب کے باوجود وسعت حوصلہ رکھتے ہیں لیکن یہ علماء اسلام کی وسیع اور پر محبت تعلیم کے باوجود اپنے اندر وسعت حوصلہ نہیں رکھتے۔جہاں تک یہ سوال ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو یہ کوئی بُری بات نہیں۔اگر اس اُمت میں سے کسی کو مسیح موعود ہونا تھا تو یہ دعویٰ حضرت مرزا صاحب کریں یا کوئی اور اس میں چڑنے کی کوئی بات نہیں۔صرف یہ دیکھا جائے گا کہ مدعی سچا ہے یا جھوٹا۔باقی رہا یہ سوال کہ تمام مسلمان مسیح کو زندہ سمجھتے ہیں اور اسی مسیح کی آمد کے قائل ہیں، یہ درست نہیں۔مسلمانوں میں سب سے پہلا اجتماع اسی بات پر ہوا تھا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام انبیاء فوت ہو چکے ہیں جن میں مسیح بھی شامل ہیں۔چنانچہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلمان گھبر اگئے اور یہ صدمہ اُن کے لئے ناقابل برداشت ہو گیا تو حضرت عمرؓ نے اسی گھبراہٹ میں تلوار کھینچ لی اور کہا کہ اگر کوئی شخص یہ کہے گا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے ہیں تو میں اُس کی گردن کاٹ دُوں گا۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہوئے بلکہ حضرت موسیٰ کی طرح خدا سے ملنے گئے ہیں اور پھر واپس آئیں گے اور منافقوں کو ختم کریں گے پھر وفات پائیں گے۔204 گویا اُن کا یہ عقیدہ تھا کہ منافق جب تک ختم نہ ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت نہیں ہو سکتے اور چونکہ منافق آپ کی وفات تک موجود تھے اس لئے وہ سمجھے کہ آپ فوت نہیں ہوئے ہیں۔حضرت ابو بکر جو اُس وقت مدینہ کے پاس باہر ایک گاؤں میں گئے ہوئے تھے تشریف لائے۔وہ سیدھے گھر میں گئے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک دیکھا اور معلوم کیا کہ آپ واقع میں وفات پاچکے ہیں۔اس پر آپ باہر تشریف لائے اور یہ کہتے ہوئے آئے کہ اللہ تعالیٰ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو موتیں نہیں دے گا۔یعنی ایک موت جسمانی دوسری موت رُوحانی کہ آپ کی وفات کے ساتھ ہی مسلمان