انوارالعلوم (جلد 23) — Page 279
انوار العلوم جلد 23 279 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ نہیں تھا۔عوام الناس تو جھوٹ بول بول کر اور دھو کے دے دے کر فساد پر آمادہ کئے گئے۔ہمارے ملک کے اکثر افراد تو پیروں کے ماننے والے ہیں۔اہل حدیث تو بہت ہی کم ہیں۔پھر اہل حدیث کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جو کہ وحی و الہام کا قائل ہے اور بزرگوں کو مانتا ہے اور اُن کی بیعت کرتا ہے جیسا کہ مولانا داؤد صاحب غزنوی کے دادا کا عقیدہ تھا اور اُن کے والد مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی نے اپنی کتاب ”اثْبَاتُ الْإِلْهَامِ وَ الْبَيْعَةِ“ میں لکھا ہے کہ: مسئلہ الہام کا حلت و حرمت کا مسئلہ نہیں جو اس کا ثبوت صحابہ اور تابعین سے ضرور ہونا چاہئے بلکہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اس دم تک اگر کسی نے بھی دعوئی نہ کیا ہو اور آج ایک شخص متقی صالح دعوی کرے کہ مجھے الہام ہو تا ہے اور مجھے غیب سے آواز آتی ہے تو بھی اُس کو سچا جانیں گے اور بحکم شریعت تمام اہل اسلام پر 66 لازم ہے کہ اُس کو سچا سمجھیں جس ملک کی اکثریت وحی اور الہام کی قائل ہو ایسے ملک میں اس بات پر شور مچانا کہ مرزا صاحب وحی کے مدعی ہیں کسی کی سمجھ میں آسکتا ہے ؟ سامعین تو اکثر وہ لوگ ہوتے تھے جو کہ اُن لوگوں کے ماننے والے ہیں جو وحی و الہام کے مدعی ہیں۔ہمارے ملک میں کتنے عوام ہیں جو کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی کو نبی نہیں مانتے اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی صاف طور پر کہتے ہیں کہ د میدم روح القدس اندر معینے مے دمد من نمے دانم مگر من عیسی ثانی شدم 95 یعنی ہر لحظہ اور ہر گھڑی جبرئیل معین کے اندر آکر یہ بات بھونکتا ہے اس لئے میں نہیں کہتا، ر حقیقت یہی ہے کہ میں عیسی ثانی ہو گیا ہوں۔یہاں صاف طور پر وحی کا دعویٰ ہے جبرئیل کے اترنے کا دعوی ہے مسیح ثانی ہونے کا دعویٰ ہے اور پاکستان کے اسی فیصدی مسلمان حضرت خواجہ معین الدین چشتی کو اپنا مقتدا اور زمانہ کا بہت بڑا ولی سمجھتے ہیں۔