انوارالعلوم (جلد 23) — Page 280
انوار العلوم جلد 23 280 مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ اگر وحی کا دعویٰ کرنا انسان کو کافر اور گمراہ بنا دیتا ہے تو کیا یہی مولوی جرآت کر سکتے ہیں کہ پبلک میں کھڑے ہو کر کہیں کہ مرزا صاحب کا وہی دعویٰ ہے جو حضرت خواجہ معین الدین چشتی کا ہے اور ایساد عویٰ کرنے والے کافر اور گمراہ ہوتے ہیں۔مسلمانوں میں سے اکثر صوفیاء حضرت محی الدین ابن عربی کو صوفیاء کا سردار قرار دیتے ہیں اور محی الدین ابن عربی بھی اجراء وحی کے قائل ہیں۔امام عبد الوہاب شعرانی لکھتے ہیں: "فَإِنْ قُلْتَ قَدْ ذَكَرًا لغَزَالِي فِي بَعْضِ كُتُبِهِ إِنَّ مِنَ الْفَرَقِ بَيْنَ تَنَذُّلِ الْوَحْيِ عَلَى قَلْبِ الْأَنْبِيَاءِ وَ تَنَزِّلِهِ عَلَى قُلُوبِ الْأَوْلِيَاءِ نُزُولُ الْمَلَكِ فَإِنَّ الْوَلِي يُلْهَمُ وَ لَا يَنْزِلُ عَلَيْهِ مَلَكَ قَطُّ وَ النَّبِيِّ لَا بُدَّ لَهُ فِي الْوَحْيِ مِنْ نُزُوْلِ الْمَلَكِ بِهِ فَهَلْ ذَلِكَ صَحِيحٌ فَالْجَوَابُ كَمَا قَالَهُ الشَّيْخُ فِي الْبَابِ الرّابع و الستِّينَ وَالثَّلَاثِ مِائَةٍ إِنَّ ذلِكَ غَلَط الْحَقِّ اَنَّ الْكَلَامَ فِى الْفَرِقِ بَيْنَهُمَا إِنَّمَا هُوَ فِي كَيْفِيَّةٍ مَا 5 يَنْزِلُ بِهِ الْمَلَكُ لَا فِي نُزُولِ الْمَلَكِ 26 یعنی اگر تو کہے کہ غزالی نے اپنی بعض کتابوں میں ذکر کیا ہے کہ انبیاء کے دلوں پر وحی کے نزول اور اولیاء کے دلوں پر وحی کے نزول میں مَا بِهِ الْاِمْتِیاز فرشتہ کا نزول ہے۔اللہ تعالیٰ ولیوں پر وحی تو کرتا ہے مگر اُن پر فرشتہ کبھی نہیں اتر تا اور نبی کے لئے ضروری ہے کہ فرشتہ اس پر وحی لے کر نازل ہو۔تو کیا یہ بات صحیح ہے ؟ اس کا جواب وہی ہے جو کہ حضرت محی الدین ابن عربی نے اپنی کتاب ( فتوحات مکیہ) کے 364 ویں باب میں بیان کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ غلط ہے اور سچی بات یہ ہے کہ نبیوں اور ولیوں کی وحی میں فرق صرف وحی کے مضمون میں ہوتا ہے نہ کہ فرشتہ کے نازل ہونے یا نہ نازل ہونے کا فرق۔اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت محی الدین ابن عربی کے نزدیک بھی جو سردار صوفیاء کہلاتے ہیں۔27 اور حضرت امام غزالی کے نزدیک بھی وحی نہ صرف نبیوں پر