انوارالعلوم (جلد 22) — Page 199
انوار العلوم جلد ۲۲ ۱۹۹ متفرق امور لیکن یہ بات نہ کہی کہ ہم کہاں جانا چاہتے ہیں اور اس طرح مسلمانوں کے معاملہ کو کمزور کر دیا لعُنَتُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ - 66 66 غرض اس اقتباس سے واضح ہے کہ احرار کا الزام خالص دھوکا بازی اور سراسر جھوٹ ہے۔الفضل کے شائع کردہ غلط خلاصہ میں بھی اس کا ذکر نہیں۔احرار نے یہ الزام لگایا ہے کہ احمدیوں نے اپنے میمورنڈم میں کہا کہ قادیان بین الاقوامی یونٹ بن چکا ہے اور اس یونٹ کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ وہ پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں یا ہندوستان میں۔حالانکہ خلاصہ میں یہ تھا کہ ” قادیان اسلامی دنیا کی ایک بین الا قوامی یونٹ بن چکا ہے اس لئے اس یونٹ کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ ہند یونین میں آنا چاہتے ہیں یا پاکستان میں۔احراریوں نے اسلامی دنیا “ کے الفاظ حذف کر دیئے اور کہہ دیا قادیان بین الا قوامی یونٹ بن چکا ہے۔پھر اس کا اگلا فقرہ کہ ” سو ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم پاکستان میں آنا چاہتے ہیں اس کو بھی حذف کر دیا۔یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے اور پھر بھی یہ مولوی بچے کے بچے ہیں۔اگر ایک عیسائی یہ اعتراض کر دے کہ قرآن کریم میں لکھا ہے۔لا تقربوا الصلوة - تو یہ لوگ شور مچا دیں گے کہ اگلا فقرہ کیوں نہیں پڑھا آگے صاف لکھا ہے وَ انتُم شکاری۔اسی طرح یہاں اگلا فقرہ یہ تھا سو ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم پاکستان میں آنا چاہتے ہیں مگر اس کو اُڑا دیا۔اور پہلے فقرہ سے اسلامی دنیا کے الفاظ حذف کر کے یہ کہہ دیا کہ گویا ہم نے کہا ہے قادیان بین الاقوامی یونٹ بن چکا ہے اور اس یونٹ کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ وہ پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں یا ہندوستان میں اور ان کی تفاصیل سے ظاہر ہے کہ ”آزاد“ کے معنے جھوٹ اور تعصب سے آزاد نہیں بلکہ اس کے معنے مادر پدر آزاد کے ہیں۔اتنا بڑا جھوٹ ان مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے بولا جاتا ہے جنہوں نے سچ کی خاطر کسی زمانہ میں اپنی جانیں دیں۔یہ اُن مسلمانوں کے ایمان کو برباد کرنے کے لئے جھوٹ بولا جاتا رہا جن کے ماں باپ نے سچائی کو قائم کرنے کے لئے عظیم الشان قربانیاں دیں۔پھر یہ جھوٹ کو شیر مادر سمجھنے والے لوگ تو صادقوں کے سردار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے