انوارالعلوم (جلد 22) — Page 198
انوار العلوم جلد ۲۲ نقصان دہ ہوگا۔۱۹۸ متفرق امور پھر اگر یہ کہا جائے کہ ہم اس میمورنڈم کو نہیں لیتے الفضل میں جو خلاصہ شائع ہوا ہے ہم اسے لیتے ہیں اُس میں یہ لکھا ہے کہ قادیان ببین الا قوامی یونٹ بن چُکا ہے اور اس یونٹ کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ وہ پاکستان میں رہنا چاہتے ہیں یا ہندوستان میں “۔میں یہ کہتا ہوں کہ اگر اس غلط خلاصہ کو بھی لیا جائے جو الفضل ۳۱ دسمبر ۱۹۴۹ء میں شائع ہوچکا ہے تب بھی آزاد کا جھوٹ ثابت ہے۔آزاد لکھتا ہے کہ احمدی نمائندہ کو کیا حق تھا کہ وہ کہتا ہے قادیان بین الا قوامی یونٹ بن چکا ہے اور اسے حق ہے کہ ہندوستان میں رہے یا پاکستان میں۔۱۰ یہ سراسر جھوٹا اور دھوکا دینے والا فقرہ ہے۔الفضل کے شائع کردہ غلط خلاصہ میں بھی یہ امر بیان نہیں۔آزاد کے نقل کردہ فقرہ کا یہ مفہوم ہے کہ قادیان عام دنیا کا ایک یونٹ ہے۔دوم اُسے حق حاصل ہے کہ خواہ ہندوستان میں رہے یا پاکستان میں۔اور یہ کہ وہ اس حق کو کس طرح استعمال کرنا چاہتا ہے اس طرف سے خاموشی ہے۔مگر الفضل کا فقرہ یہ ہے کہ قادیان اسلامی دنیا کی ایک بین الا قوامی تحریک بن چکا ہے اس لئے اس یونٹ کا حق ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ ہند یونین میں آنا چاہتے ہیں یا پاکستان میں۔سو ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم پاکستان میں آنا چاہتے ہیں۔دیکھو ان احرار کے علماء نے کس صداقت سے کام لیا ہے قادیان اسلامی دنیا کا ایک بین الاقوامی یونٹ بن گیا ہے“ کے فقرہ کو نقل کرتے ہوئے ”اسلامی“ کا لفظ بیچ میں سے اُڑا دیا ہے۔تا کہ لوگ سمجھیں کہ احمدی اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ قرار دے رہے تھے اور آخری فقرہ کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم پاکستان میں آنا چاہتے ہیں، اس کو بھی اُڑا دیا ہے تا کہ آزاد کے خریدار یہ سمجھیں کہ احمدیوں نے اپنا فیصلہ کرنے کا حق تو بتایا