انوارالعلوم (جلد 22)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 715

انوارالعلوم (جلد 22) — Page 200

انوار العلوم جلد ۲۲ ۲۰۰ متفرق امور دوست ہیں اور احمدی سچ بولنے والے احرار کے جھوٹوں اور افتراؤں کا شکار محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن ہیں لَعْنَتِ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ۔میں پھر دو ہزار رو پیدا نعام مقرر کرتا ہوں اور ہز ایکسی لینسی شیخ دین محمد صاحب کو جو اس کمشن کے ممبر تھے جس کی نسبت یہ جھگڑا ہے حج ماننے کے لئے تیار ہوں کہ کیا الفضل کے شائع شدہ غلط خلاصہ میں ”اسلامی“ کا لفظ ہے یا نہیں ؟ اور کیا اس فقرہ کے آخر میں پاکستان میں شامل رہنے کا مطالبہ کیا ہے یا نہیں؟ اگر یہ دونوں باتیں غلط ہوں تو اُن کے فیصلہ کر دینے پر میں دو ہزار روپیہ فوراً احرار کو دے دوں گا۔لیکن اگر ہز ایکسی لینسی شیخ دین محمد بوجہ اپنے موجودہ عہدے کے یہ سمجھیں کہ اُن کے لئے یہ ثالثی مناسب یا جائز نہیں تو اس کے لئے بھی تیار ہوں کہ اُوپر کے دونوں اُمور کے متعلق پانچ پانچ آدمی جو حج رہے ہوں یا دس سالہ پریکٹس والے وکیل یا بیرسٹر ہوں مرکزی احرار کی طرف سے اور صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے مقرر ہو جائیں اور پھر اُن کے نام کے قرعے ڈال کر پانچ آدمی منتخب کرنے چاہئیں۔یہ قرعہ سے نکلے ہوئے پانچ آدمی مؤکد بعذاب قسم کھا کر جو فیصلہ کریں مجھے وہ منظور ہوگا۔اور اگر یہ فیصلہ میرے خلاف ہوا تو میں دو دو ہزار کی رقم ہرامر کے بارہ میں جس کا فیصلہ میرے دعوی کے خلاف ہو احرار کو ادا کرونگا۔ہز ایکسی لینسی شیخ دین محمد صاحب گورنرسندھ کا نام صرف اس لئے تجویز کیا ہے کہ وہ باؤنڈری کمیشن کے ممبر تھے اور اس وقت حج کا کام نہیں کر رہے لیکن اگر ان کے لئے یہ کام جائز نہ ہو یا جائز ہومگر وہ پسند نہ کریں تو پھر دوسری تدبیر اختیار کرنے پر بھی مجھے اعتراض نہ ہوگا۔اب میں احمد یہ جماعت کی اُن خدمات کا ذکر کرتا ہوں جو اس نے پاکستان کی تائید میں اُس وقت کیں۔باؤنڈری کمیشن کا کام ایک نادر چیز ہے۔ہندوؤں کو بھی اس کے قواعد معلوم نہیں تھے اور نہ تازہ لٹریچر دستیاب ہو سکتا تھا۔میں نے فوراً سینکڑوں روپے خرچ کر کے امریکہ اور برطانیہ سے تازہ لٹریچر منگوایا پھر ڈاکٹر سپیٹ کو جو لندن میں سکول آف اکنامکس کے پروفیسر تھے اور جغرافیہ کے ماہر تھے یہاں منگوایا اور کئی ہزار روپیہ خرچ کر کے اُن کی مدد سے نقشے تیار کر کے کمیشن کے سامنے پیش کئے اور پھر اس نے لندن